خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 41 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 41

جذب بھی۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ قوت قدسی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ہمارے پیغمبرﷺ کی قوت قدسی اس درجہ پر پہنچی ہے کہ اگر تم انبیا علیہم السلام کے مقابلہ میں دیکھیں تو معلوم ہوگا۔کہ کسی نے آپ ﷺ کے مقابلہ میں کچھ نہیں کیا۔آنحضرت ﷺ کی تیار کردہ جماعت کو اگر دیکھا جائے تو وہ ہمہ تن خداہی کیلئے نظر آتے ہیں اور اپنی عملی زندگی میں کوئی نظیر نہیں رکھتے۔آنحضرت ﷺ کی مبارک اور کامیاب زندگی کی تصویر یہ ہے کہ آپ ایک کام کے لئے آئے اور اسے پورا کر کے اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے۔جس طرح بند و بست والے پورے کا غذات پانچ برس میں مرتب کر کے آخری رپورٹ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔اسی طرح پر رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نظر آتا ہے۔اس دن سے لے کر جب قُمُ فَانْذِرُ (المدثر : 3 ) کی آواز آئی۔پھر إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ (النصر : 2) اور الْيَوْمَ أكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم (المائدہ:4) کے دن تک نظر کریں تو آپ کی لا نظیر کا میابی کا پتہ ملتا ہے۔ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔کہ آپ ﷺ خاص طور پر مامور تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی زندگی میں وہ کامیابی نصیب نہ ہوئی جو ان کی رسالت کا منتہا تھی۔وہ ارض مقدس اور موعود سر زمین کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ سکے بلکہ راہ میں ہی فوت ہو گئے۔۔۔ایسا ہی مسیح علیہ السلام کی زندگی پر نظر کرو۔ساری رات خود دعا کرتے رہے دوستوں سے کراتے رہے۔آخر شکوہ پر اتر آئے اور ایلی ایلی لِمَا سَبَقْتَنِی بھی کہہ دیا۔یعنی اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور ایسی حسرت بھری حالت کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ مامور من اللہ ہے جو نقشہ پادریوں نے مسیح کی آخری حالت کا جما کر دکھایا ہے وہ تو بالکل مایوسی بخشا ہے۔۔۔اسکے مقابل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیسا پکا کام ہے اس وقت سے جب سے کہا کہ میں ایک کام کرنے کیلئے آیا ہوں۔جب تک یہ نہ سن لیا کہ الْيَوْم اكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائده:4) آپ دنیا سے نہ اُٹھے جیسے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اِنِّی رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 159)اس دعوئی کے مناسب حال یہ ضروری تھا کہ کل دنیا کے مکر و مکائد متفق طور پر آپ کی مخالفت میں کئے جاتے۔آپ نے کس حوصلہ اور دلیری کے ساتھ مخالفوں کو مخاطب کر کے کہا کہ فكِيدوني جَمِيعًا (هود: 56) یعنی کوئی دقیقہ مکر ک باقی نہ رکھو سارے فریب مکر استعمال کرو قتل کے منصوبے کرو۔