خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 566 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 566

566 غلط کاریاں دعا کی راہ میں ایک سر اور چٹان ہو جاتی ہے اور استجابت کا دروازہ اس کے لئے بند ہو جاتا ہے پس ہمارے دوستوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچاویں اور ان کی راہ میں کوئی روک نہ ڈال دیں۔جوان کی ناشائستہ حرکات سے پیدا ہو سکتی ہے۔“ ملفوظات جلد 1 صفحہ 68 گویا قبولیت دعا کی سب سے بڑی شرط تقویٰ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ہر اک نیکی کی جڑ یہ انقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے که خلیفہ وقت کا وجود اور ہمارا فرض ہماری بہنیں اور بھائی حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو دعا کے لئے خط لکھتے ہیں اور ان کو بکثرت لکھتے رہنا چاہیے۔کیونکہ مقام خلافت ہی وہ مقام ہے جس کے ذریعہ سے ہم صحیح راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔لیکن دعا کے لئے لکھتے وقت اپنے نفس کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔کہ میں حضرت خلیفہ امسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی کامل طور پر اطاعت گزار ہوں یا نہیں۔یہ تو ایسی ہی مثال ہے۔کہ ایک مریض ڈاکٹر کو دکھانے کے لئے جائے اور جب ڈاکٹر اس کے لئے کوئی دوائی تجویز کرے یا کسی قسم کا پر ہیز بتائے تو نہ تو وہ دوائی استعمال کرے اور نہ ہی پر ہیز کے متعلق ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرے اور پھر کہدے کہ ڈاکٹر کے علاج سے فائدہ نہیں ہوا۔خلیفہ وقت اک وجود روحانی طبیب کا ہے۔آپ کی ہدایات اور نصائح پر عمل پیرا ہوئے بغیر نہ ہمیں روحانی طور پر صحت حاصل ہو سکتی ہے نہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہمارے اور حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے درمیان وہ گہرا تعلق پیدا ہوسکتا ہے جو دعا کرنے والے کے دل میں دعا کروانے والے کے لئے بے قراری پیدا کر دے۔پس اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کی رضامندی بھی حاصل ہو۔اپنی وفاداری سے عمل سے اخلاص سے خدمت دین سے اور اپنی قربانیوں سے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دوسری شرط قبولیت دعا کی یہ بیان فرمائی ہے کہ انسان جس کے لئے دعا کرتا ہے اس کے لئے دل میں درد پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ (النمل: 63) کون کسی بے کس کی دعا سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والے اور