خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 565
565 مناسب ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے اور وہ بظاہر اس کے مفید مطلب نتیجہ خیز نہ ہو۔تو خدا پر بدظن نہ ہو۔کہ اس نے میری دعا نہیں سنی وہ تو ہر ایک کی دعا سنتا ہے۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المومن (61) فرماتا ہے۔راز اور بھید یہی ہوتا ہے کہ داعی کے لئے خیر اور بھلائی رڈ دعا ملفوظات جلد 1 صفحہ 66-67 ہی میں ہوتی ہے۔“ قبولیت دعا کی بعض شرائط بھی ہیں۔اگر انسان اپنے اندر ان کیفیات کو پیدا کرے اور قبولیت دعا کا اپنے آپ کو مستحق بنا دے تو اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال ہوتا ہے ایک انسان دعا ئیں بہت مانگے مگر اس کا عمل صالح نہ ہو تو ان دعاؤں کے مانگنے کا کیا فائدہ جبکہ عمل قول اور دعوے کے خلاف ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ سوره المآئده : 28 متقیوں کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ درجہ قبولیت عطا فرماتا ہے۔گویا قبولیت دعا کی پہلی اور سب سے بڑی شرط تقویٰ ہے جس میں اعتقادی اور عملی دونوں طرح کی اصلاح آجاتی ہے اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعائیں قبول کرتا ہے جو لوگ متقی نہیں ہیں ان کی دعائیں قبولیت کے لباس سے ننگی ہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمانیت ان لوگوں کی پرورش میں اپنا کام کر رہی ہے۔“ ملفوظات جلد 1 صفحہ 278 گویا متقیوں کی ہر دعا قبول ہوتی ہے ان کی کوئی دعا ضائع نہیں جاتی۔خواہ بظاہر یہ نظر آئے کہ دعا قبول نہیں ہوتی۔اگر بشری غلطی سے ایک متقی شخص ایک ایسی دعا مانگے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے حق میں اچھے نتائج پیدا نہ کرنے والی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز عطا فرماتا ہے جو اس کی خواہشات کا نعم البدل ہوتی ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ دعا مانگنے والا بھی اور دعا کروانے والا بھی منتقی انسان ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دعا کرانے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو مدنظر رکھے اور اس کے غناء ذاتی سے ہر وقت ڈرتا رہے اور صلح کاری اور خدا پرستی اپنا شعار بنالے۔تقویٰ اور راستبازی سے خدا تعالیٰ کو خوش کرے تو ایسی صورت میں دعا کے لئے باب استجابت کھولا جاتا ہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے اور اس سے بگاڑ اور جنگ قائم کرتا ہے تو اس کی شرارتیں اور