خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 564 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 564

564 پھر اللہ تعالیٰ کا یہ طریق بھی ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنے بندوں کو آزماتا بھی ہے۔تا اس ابتلا کے ذریعہ دنیا کو پتہ لگ سکے کہ کون واقعی اللہ تعالیٰ کا سچا عبد اور اس کی رضا پر راضی رہنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔دعا بڑی چیز ہے افسوس ! لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ کیا ہے۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر دعا جس طرز اور حالت پر مانگی جاوے ضرور قبول ہو جانی چاہئے اس لئے جب وہ کوئی دعامانگتے ہیں اور پھر وہ اپنے دل میں جمائی ہوئی صورت کے مطابق اس کو پورا ہوتا نہیں دیکھتے۔تو مایوس اور نا امید ہوکر اللہ تعالیٰ پر بدظن ہو جاتے ہیں حالانکہ مومن کی یہ شان ہونی چاہئے کہ اگر بظاہر اسے اپنی دعا میں مراد حاصل نہ ہوتب بھی نا امید نہ ہو کیونکہ رحمت الہی نے اس دعا کو اس کے حق میں مفید نہیں قرار دیا۔دیکھو بچہ اگر ایک آگ کے انگارے کو پکڑنا چاہئے تو ماں دوڑ کر اس کو پکڑے گی۔بلکہ اگر بچہ کی اس نادانی پر ایک تھپڑ بھی لگا دے تو کوئی تعجب نہیں“ بندہ کی حقیقی ریکار کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 434) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہی عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے کہ حقیقت میں ایک بندہ کی حقیقی پکار رد نہیں ہوتی۔اگر ظاہری طور پر نظر آئے کہ دعا قبول نہیں ہوئی تب بھی اللہ تعالیٰ کے وعدہ استجب لکم کے خلاف نہیں۔کیونکہ بعض دعاؤں کا رد ہو جانا ہی ان کی قبولیت ہے۔اس لئے کہ دعا کرنے والے کی بھلائی اس دعا کے رد کرنے میں ہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہام فرمایا تھا أَجِيْبُ كُلَّ دُعَائِكَ کہ میں آپ کی ساری دعائیں قبول کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس الہام کے متعلق فرماتے ہیں۔” میرے ساتھ میرے مولا کریم کا صاف وعدہ ہے کہ اُجِيْبُ كُلَّ دُعَائِک اگر میں خوب سمجھتا ہوں کہ کل سے مراد ہے کہ جن کے نہ سننے سے ضرر پہنچ جاتا۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ تربیت اور اصلاح چاہتا ہے تو رد کرنا ہی اجابت دعا ہوتا ہے۔بعض اوقات انسان کسی دعا میں ناکام رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دعا رد کر دی حالانکہ خدا تعالیٰ اس کی دعا کوسن لیتا ہے۔اور وہ اجابت بصورت رد ہی ہوتی ہے۔کیونکہ اس کے لئے در پردہ اور حقیقت میں بہتری اور بھلائی اس کے رد ہی میں ہوتی ہے۔انسان چونکہ کوتاہ بین ہے اور دور اندیش نہیں بلکہ ظاہر پرست ہے اس لئے اس کو