خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 563
563 بھی اس کے دل میں کوئی شک اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔دعا ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ پر زندہ ایمان عطا کرتا ہے اسے گناہ سے بچاتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں استقامت عطا فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دعا بڑی دولت ہے جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی۔وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے اردگر مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔لیکن جو دعاؤں سے لا پروا ہے۔وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے۔اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ایک لمحہ میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہو جائے گا۔اور اس کی ہڈی بوٹی نظر نہ آئے گی۔اس لئے یا درکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ ہی یہی دعا ہے۔یہی دعا اس کے لئے پناہ ہے۔اگر وہ ہر وقت اس میں لگا ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 148 149) رہے۔“ ضروری نہیں کہ ہر دعا قبول ہو:۔دعا کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ ضروری نہیں کہ ہر دعا قبول ہو۔دنیا میں دو دوستوں میں یہی طریق ہے کبھی انسان اپنے دوست کی مانتا ہے کبھی اس سے اپنی منواتا ہے۔ماں باپ اپنے بچوں کی جائز خواہشات کو جن کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے مضر نہ ہوں گی تکلیف اٹھا کر بھی پورا کرتے ہیں۔لیکن جس مطالبہ کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ اولاد کے لئے نقصان دہ ہے خواہ اولا داس کے لئے کتنا زور لگائے انکار کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو ماں اور باپ سے بھی زیادہ شفیق اور مہربان ہے۔دوست سے بھی زیادہ وفا دار ہے وہ بھی اپنے بندوں سے دوستانہ معاملہ چاہتا ہے۔کبھی اپنے بندوں کی مانتا ہے کبھی اپنی منواتا ہے۔اور اس کا حقیقی بندہ وہی ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر شاکر رہے۔یہ تو ہمارے پیدا کرنے والے ہی کو پوری طرح معلوم ہے کہ کون سی بات ہمارے حق میں فائدہ مند ہے اور کون سی مضر۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے۔وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (البقره: 217) ممکن ہے کہ تم کسی شے کو پسند کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارے لئے دوسری چیز کی نسبت بُری ہو۔اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔