خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 40 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 40

تھا۔جو ایک دنیا دار انسان کیلئے تحریص اور ترغیب کا موجب ہو سکے۔خود آپ نے ہی یتیمی میں پرورش پائی بے شک آپ کے پاس کوئی مال و دولت اور دنیوی تحریص و ترغیب کا ذریعہ نہ تھا اور ہر گز نہ تھا لیکن آپ کے پاس دوز بر دست چیزیں جو حقیقی اور اصلی مؤثر اور جاذب میں تھیں وہی انہوں نے پیش کیں۔اور انہوں نے ہی دنیا کو آپ ﷺ کی طرف کھینچا۔وہ تھیں حق اور کشش۔یہ دو چیزیں ہی ہوتی ہیں جن کو انبیاء علیھم السلام لے کر آتے ہیں۔جب تک یہ دونوں موجود نہ ہوں انسان کسی ایک سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا اور نہ پہنچا سکتا ہے۔حق ہوکشش نہ ہو کیا حاصل؟ کشش ہو لیکن حق نہ ہو اس سے کیا فائدہ؟ ملفوظات جلد دوم صفحہ 104-105 نیا ایڈیشن کے اس اصول کو سامنے رکھ کر آنحضرت ﷺ کی سیرت پر نظر ڈالی جائے تو آپ کا وجود ہی کامل ترین نظر آتا ہے۔آپ نے انسانوں تک وہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم پہنچائی جس نے ان کو خدا سے ملا دیا اور جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ (بنی اسرئیل :82 ) کا نظارہ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔المائدہ: 4 دنیا کے لئے فیصلہ کر دیا کہ قیامت تک کے لئے کامل شریعت آنحضرت ﷺ کے ذریعہ نازل ہو چکی ہے۔اور یہ شریعت کسی ایک قوم یا کسی ایک ملک یا کسی ایک زمانہ کیلئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے ہے۔غرضیکہ حق تمام تر آپ اللہ کے ساتھ تھا۔اور اس حق کے ذریعہ دنیا کی اصلاح کے لئے آپ کی جان اس حد تک گداز ہوئی کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4 فَلا تَذْهَبُ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ فاطر: 9 کہ کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ حق کو قبول نہیں کرتے تو حسرتیں کھا کھا کر اپنی جان دے دے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی نوع انسان کی ہمدردی میں اپنی جان کو وقف کر دیا تھا۔دعا کے ساتھ تبلیغ کے ساتھ اور مناسب اور حکیمانہ طریق کے ساتھ اپنی جان اور اپنے آرام کو ان کی بہبودی کے لئے لگا دیا تھا۔اور ان کی تربیت کیلئے ایسے ارشادات فرمائے جس سے نہ صرف وہ خود با خدا انسان بن گئے۔بلکہ آئندہ ان کی نسلیں بھی جاں نثار ثابت ہوئیں۔غرضیکہ حق بھی آپ کے ساتھ تھا اور