خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 39 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 39

39 پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے پہلوں سے خوبتر ہے خوبی میں اک قمر ہے اس پر ہر اک نظر ہے بدر الدجی یہی ہے فخر موجودات خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سیرت پر مختصر وقت میں کچھ بیان کرنا ایسا ہی ہے۔جیسے دریا کو کوزہ میں بند کر دینا۔اور آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ تو ایک ایسا بحر ذخار ہے۔جس کی گہرائی کا کوئی اندازہ نہیں۔جتنے غوطے اس میں لگائے جائیں۔آبدار موتی نکلتے ہی آتے ہیں۔اس وقت میں آپ کی قوت قدسیہ کے متعلق کچھ بیان کرونگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” جب خدا تعالٰی انبیاء علیہم السلام کو دنیا میں مامور کر کے بھیجتا ہے تو اس وقت دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جوان کی باتوں پر توجہ کرتے ہیں اور کان دھرتے ہیں۔اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اسے پورے غور سے سنتے ہیں۔یہ فریق وہ ہوتا ہے جو فائدہ اُٹھاتا ہے اور بچی نیکی اور اس کی برکات وثمرات کو پالیتا ہے۔دوسرا فریق وہ ہوتا ہے جو ان کی باتوں کو توجہ اور غور سے سننا تو ایک طرف رہا۔ان پر ہنسی کرتے اور ان کو دُکھ دینے کیلئے منصوبے سوچتے اور کوشش کرتے ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو اس وقت بھی اسی قاعدہ کے موافق دو فریق تھے۔ایک وہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سنا اور پورے غور سے سنا اور پھر آپ کی باتوں سے ایسے متاثر ہوئے اور آپ پر ایسے فدا ہوئے کہ والدین اور اولاد۔احباء اور اعزہ غرض دنیا میں جو چیز انہیں عزیز ترین ہوسکتی تھی۔اس پر آپ کے وجود کو مقدم کر لیا۔اچھے بھلے آرام سے بیٹھے تھے۔برادری کے تعلقات اور احباب کے تعلقات سے اپنے خیال کے موافق لطف اُٹھا رہے تھے۔مگر اس پاک وجود کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہی وہ سارے رشتے دار اور تعلق ان کو چھورنے پڑے۔اور ان سے الگ ہونے میں انہوں نے ذرا بھی تکلیف محسوس نہ کی۔بلکہ راحت اور خوشی سمجھی۔اب غور کرنا چاہئے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے پاس وہ کیا چیز تھی۔جن سے ان لوگوں کو اپنا ایسا گرویدہ بنالیا کہ وہ اپنی جانیں دینے کیلئے تیار ہو گئے۔اپنے تمام دنیوی مفاد اور منافع اور تمام قومی اور ملکی تعلقات کو قطع کرنے کیلئے آمادہ ہوئے نہ صرف آمادہ بلکہ انہوں نے قطع کر کے اور اپنی جانوں کو دے کر دکھا دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کس خلوص اور ارادت سے ہوئے تھے۔بظاہر آپ کے پاس کوئی مال ودولت نہ