خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 544 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 544

544 اختتامی خطاب سالانہ اجتماع 1968ء ممبرات لجنہ اور ناصرات الاحمدیہ میں انعامات تقسیم کرنے کے بعد حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے اختتامی خطاب فرمایا۔آپ نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ہمارا یہ سالانہ اجتماع بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوگیا۔مختلف مقابلہ جات میں جن بچیوں نے انعامات حاصل کئے ہیں انہیں مبارک ہو۔لیکن یاد رہے کہ یہ مقابلے کرانے اور انعامات دینے سے ہماری غرض یہی ہے کہ ہماری خواتین اور بچیاں قرآنی ارشاد فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ پر عمل کرنے والی بنیں وہ انفرادی اور اجتماعی نیکیوں میں اعلیٰ اخلاق میں قرآن مجید کی تعلیم میں مالی قربانیوں میں، بچوں کی اعلیٰ تربیت میں ہمیشہ ہی ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتی رہیں۔خطاب کو جاری رکھتے ہوئے حضرت سیدہ موصوفہ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان دار النجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے۔‘ کی روشنی میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کی علیحدہ علیحدہ بڑی جامع اور دلنشین تشریح کا خلاصہ ایک فقرہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ میں بیان ہوا ہے۔کیونکہ اس پر صدق دل سے ایمان لانے ہی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ پر توکل کامل پیدا ہوتا ہے اور اس طرح خدا اور بندے کے درمیان تعلق استوار ہوتا چلا جاتا ہے۔لیکن لا إِلهَ إِلَّا الله پر عمل محمد رسول اللہ کو مانے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ آنحضرت ﷺ کامل مظہر ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے۔توحید کامل کا قیام آپ ہی کے ذریعے ہوا لہذا آپ پر ایمان لانے اور آپ کی کامل اطاعت کے بعد حقیقی تو حید اور کامل تو کل کا مقام حاصل ہوسکتا ہے۔تقریر کو جاری رکھتے ہوئے حضرت سیدہ موصوفہ نے صحابیات آنحضرت ﷺ کے ایمان کامل اور اطاعت کامل کی چند مثالیں دیں اور فرمایا اسی اطاعت کی بدولت ایک قلیل مدت میں مسلمان قوم نے ساری دنیا میں غلبہ حاصل کر لیا تھا۔اگر آج بھی اطاعت خلیفہ کی یہی روح تمام احمدی خواتین کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ غلبہ جو مقدر ہے بہت جلد ظہور پذیر ہوسکتا ہے۔اس کے بعد آپ نے حضرت خلیفتہ المسیحالثالث ایدہ اللہ کی تحریک ترک رسومات اور تعلیم القرآن کی طرف مستورات کی توجہ مبذول کرائی، نیز بے پردگی اور مغرب کی تقلید میں فیشن سے اجتناب کی پر زور تلقین کی فرمایا۔ہماری مستوارت کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمانوں کی فکر کریں۔اپنی اولا دوں کو آگ سے بچائیں۔نہ