خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 530
530 ہی اس اعلیٰ تہذیب کا پھر سے قائم کرنا ہے جس تہذیب کو اسلام نے جنم دیا تھا اور ان تمام ہدایات پر عمل پیرا ہونے سے ہی تربیت کا وہ کام ہوسکتا ہے جس کا کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔قرآن مجید پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بقائے نسل ، اصلاح خاندان ، درستگی معاشرہ اور صحیح اسلامی تہذیب کے قیام کے لئے سب سے پہلا حکم جو اسلام دیتا ہے وہ یہ ہے کہ تقویٰ اللہ کو مدنظر رکھو۔یہ پہلا زینہ ہے خاندان، معاشرہ ، قوم اور ملک کی اصلاح اور ترقی کا۔قرآن مجید کی جو سورۃ تفصیل کے ساتھ قدرتی احکام بیان کرتی ہے اس کی ابتداء ہی یوں ہوتی ہے۔يايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَ لُوْنَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء: 2) (ترجمہ) اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے ہی اس نے جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کر کے دنیا میں پھیلائے اور اللہ کا تقویٰ اس لئے بھی اختیار کرو کہ اس کے ذریعہ تم آپس میں سوال کرتے ہو اور خصوصاً رشتہ داریوں کے معاملہ میں تقویٰ سے کام لو۔اللہ تعالیٰ تم پر یقینا نگران ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں تُنْكَحُ الْمَرْءَ ةُ لِاَرْبَعِ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظُفُرُ بِذَاتِ الدِّين تَرِبَتْ يَدَاكَ۔(بخاری کتاب النکاح) کوئی شخص اس لئے شادی کرتا ہے کہ بیوی اچھے خاندان کی ہو کوئی اس کی خوبصورتی کی وجہ سے کوئی مال و دولت کی وجہ سے لیکن اے مسلمان تو دین کو سب باتوں پر مقدم رکھیو۔کیسی اعلیٰ وارفع اور پاکیزہ تعلیم ہے۔اپنے معاشرہ اور دلوں کا جائزہ لیں لڑکے والے پہلے لڑکی کا پیغام دیتے ہیں پھر تقاضے شروع ہوتے ہیں۔جہیز میں کتنے جوڑے ہوں گے؟ کیا زیور ہوگا؟ لڑکے کو کیا دو گے؟ ساس نندوں ، دیورانی جٹھانی کے لئے جوڑوں کے ساتھ اگر زیور میں دیا جائے تو سونے پر سہا گہ۔کیا اس قوم کی عورتوں کا جنہوں نے عہد بیعت تو یہ باندھا تھا کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گی یہی وطیرہ ہونا چاہئے؟ کیا بلجنہ کی میرات کو جو ہر سال اجلاس میں یہ عہد دہراتی ہیں کہ اپنے مذہب اور دین کی خاطر اپنی عزت کی پروا نہیں کریں گی یہی روش اختیار کرنی چاہیے؟ کیا ان احمدی خواتین کو جن کو ان کے امام ایدہ اللہ تعالیٰ نے