خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 525 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 525

525 تیری درگہ میں نہیں رہتا کوئی بھی بے نصیب شرط رہ پر صبر ہے اور ترک نام اضطرار صبر کے ایک اور معنے بھی ہیں رُک جانے کے یعنی بُرائیوں سے رکنا۔ہر اس کام سے رکنا جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں نا پسندیدہ ہو۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی خواتین کو جلسہ سالانہ 1967ء میں خطاب فرماتے ہوئے اسی طرف توجہ دلائی تھی۔آپ فرماتے ہیں:۔پانچویں صفت جو سچی مسلمان عورت میں اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے وہ صابرہ ہے۔یعنی اسے صابرات میں شامل ہونا چاہئے اس کے معنے یہ ہیں کہ جن چیزوں سے بچنے اور رکے رہنے کا عقل یا شرع تقاضا کرے ان سے اپنے نفس کو روکے رکھنا۔جزع فزع نہ کرنا کوئی رنج کی بات ہو تو بعض عورتیں پیٹنا شروع کر دیتی ہیں۔ایسے کلمات منہ سے نکالنے لگ جاتی ہیں جو ایسی عورت کے منہ سے نہیں نکنے چاہیں جو قادر مطلق ہستی پر ایمان رکھتی ہو۔۔۔۔نیز صابرہ کے معنے ہیں بہادری اور شجاعت کے ساتھ دشمن کے مقابلہ پر ڈٹے رہنا۔۔۔سب سے بڑا دشمن تو ہمارا شیطان ہے اس کے مقابلہ میں بزدلی نہیں دکھانی چاہئے۔جس راستہ پر بھی اور جس میدان میں بھی شیطان ہم پر حملہ آور ہو ہمیں کامیابی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا چاہئے اور اس مقابلہ کے جو طریق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب اور ملفوظات میں بیان کئے ہیں ان تمام طریقوں کو استعمال کر کے شیطان کے مقابلہ میں بلا خوف کھڑے ہو جانا چاہئے۔اور اس کو شکست دینی چاہئے۔تب آپ صابرہ بنتی ہیں۔“ ان تمام خصوصیات کا انسان میں پیدا ہو جانے کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا ایک یقینی راستہ بھی ہے۔یہ خیال کسی کے دل میں نہ آئے کہ یہ سب صفات اگر کسی ایسے انسان میں پائی جائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ رکھتا ہو۔اور آپکا مطیع و فرمانبردار نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قاعدہ کلیہ کے طور پر فیصلہ فرما دیا ہے۔قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمُ مصباح جون 1967 ء (ال عمران : 32) اے محمد رسول اللہ آپ ساری دنیا کو بتادیں کہ جو بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ رکھتا ہے اور یہ چاہتا