خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 513 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 513

513 زیادتی ہی محبت کو بڑھاتی ہے۔معرفت حاصل کرنے کے بعد چوتھا ذریعہ محبت الہی کو اپنے دل میں پیدا کرنے کا صبر اور حسن ظن ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” جب تک ایک حیران کر دینے والا صبر نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 461 جب انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے کوشش کرتا چلا جاتا ہے اس کی راہ میں ثابت قدمی دکھاتا ہے مصائب اور تکلیفیں جو اس کی راہ میں قربانی دینے سے پہنچتی ہیں۔ان پر کامل صبر دکھاتا ہے اس کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آنے پاتی تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے وعدہ کے مطابق کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا هُدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔(العنكبوت: 70) اس کے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے۔قرب الہی کی راہیں اس کے لئے آسان ہو جاتی ہیں۔ناممکن باتیں ممکن ہونے لگتی ہیں۔بہت سے ہوتے ہیں جو نیکی میں قدم آگے بڑھاتے ہیں لیکن چونکہ ان میں ثبات نہیں ہوتا کسی وقت ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔عارضی جوش فنا ہو جاتا ہے لیکن جو صبر دکھائے اور مشکلات میں ثابت قدم رہے۔مشکلات کے پہاڑ بھی آخر اس کے سامنے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔اور جو کچھ وہ ڈھونڈ رہا ہوتا ہے پالیتا ہے۔آخری ذریعہ جو حقیقت میں سب سے بڑا ذریعہ ہے۔وہ دعا ہے۔اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی محبت کو اسی سے مانگنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے مجھ سے مانگو میں دوں گا۔ادعونی استجب لکم۔اب یہ مانگنے والے کا کام ہے کہ وہ مانگتا چلا جائے۔ہمت نہ ہارے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔غضب ہے شاہ بلائے غلام منہ موڑے ستم ہے چُپ رہے یہ وہ کہے مجیب ہوں میں اسلام نے دعا جیسی بے بہا نعمت سے مسلمانوں کو نوازا ہے۔دعا کی حقیقت سے دوسری اقوام اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بے بہرہ ہیں۔ہاں یہ ضروری ہے کہ وَالْيُؤْمِنُوابِی (البقرہ: 187) والی شرط پوری کی جائے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کی قدرت پر کامل یقین ہو کہ وہ دعائیں سنتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہماری جماعت نے قبولیت دعا کی وہ بے نظیر نشانیاں دیکھی ہیں جن کی مثال کہیں اور نہیں پائی جاتی۔ہماری جماعت کی خواتین کو دعا کو اپنا ہتھیار بنانا چاہئے۔اور اس رب العزت کے حضور اپنی روحانی ترقی۔اس کا قرب حاصل کرنے اور اس کی محبت کو پانے کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔