خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 35 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 35

35 لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند حوالہ جات پیش کرتی ہوں۔الحکم 3 اکتوبر 1903ء میں فرماتے ہیں۔ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا نہ کرے کہ مسلمانوں پر وہ دن آئے کہ ان کے مردوں اور عورتوں کی ایسی زندگی ہو جیسی کہ اہل یورپ مثلاً خاص لنڈن اور پیرس میں نمونہ پایا جاتا ہے۔چونکہ زمانہ اپنی تاریکی کی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔اس لئے اکثر لوگوں کی آنکھوں سے اسلامی خوبیاں مخفی ہوگئی ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ یورپ کے قدم بقدم چلیں یہاں تک کہ حکم قرآن قُلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (النور: 31) کو بھی الوداع کہہ کر اپنی پاک دامن عورتوں کو ان عورتوں کی طرح بنا دیں جن کو نیم بازاری کہہ سکتے ہیں۔“ ملفوظات جلد چہارم صفحہ 104 نیا ایڈیشن کے پھر آپ فرماتے ہیں:۔یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں۔لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو۔اگر اس آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاک دامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطر ناک ہوں گے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں:۔" آج کل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔انہی بد نتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت گے۔ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ایسے موقع پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد و عورت ہر دو جمع ہوں تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ان ناپاک نتائج پر غور کرو۔جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔یہ انہیں تعلیمات کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یا درکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ علیم ہے۔جس نے مرد وعورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تاریخ نہیں