خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 33
33 حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تو اس ترقی میں پردہ روک نہیں کیونکہ آپ کی بعثت کی غرض اللہ تعالیٰ نے الہام آپ کو یہ بتائی تھی کہ يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ آپ دنیا میں حقیقی اسلام کو جس کا صرف نام دنیا میں باقی رہ گیا تھا اور اسلام کی روح غائب ہو گئی پھر سے قائم کریں گے اور قرآنی شریعت کے احکام کو دنیا میں پھر سے رائج کریں گے۔کیونکہ قرآنی شریعت کے احکام پر عمل کرنے سے دنیا کی نجات اور ترقی وابستہ ہے۔جس قسم کی قربانیاں صحابیات نے دیں۔کیا ہماری بہنیں دعویٰ کر سکتی ہیں کہ پر وہ چھوڑ کر بھی اس قسم کے کام کسی نے کئے ہیں۔اسلامی تاریخ جن قربانیوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے اس قسم کا ایک کام بھی پردہ چھوڑنے والی عورتوں کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔جنگ یرموک میں عیسائی لشکر نے جب یکدم حملہ کیا تو اسلامی لشکر مقابلہ کی تاب نہ لا کر وقتی طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔اس وقت مسلمان عورتوں نے خیمے تو ڑتوڑکر ان کی لکڑیاں ہاتھوں میں پکڑ لیں اور مسلمان سپاہیوں کے گھوڑوں کے منہ پر مار مار کر ان کو واپس دشمن کے لشکر کی طرف دھکیل دیا۔ان عورتوں میں سے ایک ہندہ بنت عقبہ بن ربیعہ بھی تھیں جو کسی زمانہ میں اسلام کی شدید دشمن رہ چکی تھیں۔پیچھے ہٹنے والے مسلمان سپاہیوں میں ابوسفیان بھی تھے جو ہندہ کے خاوند تھے۔ہندہ نے ان کے گھوڑے کو خیمہ کی لکڑی سے مارا اور کہا کہ آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں تو تم سب سے آگے تھے۔اب اسلام قبول کر کے میدان جنگ سے بھاگتے ہو! جب ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں نے یہ نظارہ دیکھا تو کہا واپس چلو دشمن کی تلواروں سے مسلمان عورتوں کے ڈنڈے زیادہ سخت ہیں۔چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ لشکر واپس لوٹا اور فتح پائی۔اسی طرح اسی جنگ کا واقعہ ہے کہ ایک شب اسلامی لشکر کے کمانڈر حضرت ابو عبیدہ چکر لگانے کے لئے باہر نکلے تو انہوں نے محسوس کیا کہ اسلامی لشکر کے ارد گرد دو شخص پھر رہے ہیں آپ کو شبہ ہوا کہ دشمن کے جاسوس نہ ہوں۔چنانچہ آپ تفتیش کے لئے آگے بڑھے اور آواز دی ” کون ہے؟ اس پر حضرت زبیر آگے بڑھے۔ان کے ساتھ ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت ابوبکر تھیں۔انہوں نے کہا کہ آج مسلمان چونکہ تھکے ہوئے تھے۔اس لئے میں اور میری بیوی دونوں پہرہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔کیا آج کی بے پردہ خواتین میں قومی خدمت کا یہ جذ بہ یا کام کرنے کی یہ روح موجود ہے یا وہ محض دنیاداری فیشن اور مغربیت کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ایک اسلامی حکم چھوڑنے کے ساتھ وہ بہت سی نیکیوں سے محروم ہو کر رہ گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی نافرمانی آنحضرت ﷺ کی نافرمانی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نافرمانی کی مرتکب ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے۔