خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 476
476 ہے۔أَطِيعُوا الله وَرَسُولَہ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت کی جائے۔اس اصول کو اپنانے کے لئے تمام مستورات کو خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہنا چاہیے۔کیونکہ آپ جانشین ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اور آپ کی اطاعت کر کے ہم خدا تعالیٰ اور رسول اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکتی ہیں۔اس ضمن میں حضرت سیدہ موصوفہ نے حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی تحریکات میں سے چندہ وقف جدید اور تحریک تعلیم القرآن کی طرف حاضرات کو خصوصی توجہ دلائی۔نیز غیر شرعی رسوم سے قطعی اجتناب کرنے کی بھی پر زور تلقین کی۔خطاب کے آخر میں آپ نے فرمایا کہ گزشتہ سال مختلف لجنات کے دورے کرنے سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ابھی ہماری مستورات میں تربیت کی کمی ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے اور اختلافات رونما ہوئے ہیں۔لہذا میری بہنو اور عزیز بچیو! میں دکھے ہوئے دل کے ساتھ فریاد کرتی ہوں کہ آپ سب ان چھوٹے چھوٹے اختلافات کا قلع قمع کرنے باہم اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنے معاشرے کی اصلاح کریں۔آپکا ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو۔ہر عمل اُس واحد یگانہ کو خوش کرنے کیلئے ہو اور ہر حرکت اِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين (الانعام: 163) کی عملی تفسیر ہو۔اس کے بعد آپ نے بیرون جات سے آئی ہوئی تمام ممبرات کو الوداع کہا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سفر و حضر میں ان کا حافظ و ناصر ہو۔بخیر و عافیت گھروں کو جائیں۔خوش و خرم رہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔آخر میں آپ نے اجتماعی دعا کرائی جس کے ساتھ ہی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا یہ دسواں سالانہ اجتماع مصباح نومبر 1967ء اختتام پذیر ہوا۔