خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 475 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 475

475 اختتامی خطاب بر موقع سالانہ اجتماع 22 /اکتوبر 1967ء آپ نے تشہد، تعوذ، سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورۃ انفال کی پہلی آیات تلاوت کیں اور فرمایا:۔مختلف شہروں سے آئی ہوئی ممبرات لجنہ اماءاللہ نے تین دن روحانی خزائن کو حاصل کرنے کیلئے یہاں گزارے ہیں۔اس دوران انہوں نے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے رُوح پر ور خطاب کو سنا۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی زبان مبارک سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ کے چند واقعات سنے۔درس القرآن اور درس حدیث سے مستفیض ہوئیں۔خدا کرے یہ سب کچھ آپ کے اندر نیا روحانی تغیر پیدا کرنے کا موجب ہو۔اور جماعت اور نظام سلسلہ کیلئے قربانیوں کا ایک نیا عزم لئے ہوئے نئی امنگوں اور نئے جوش کے ساتھ گھروں کو واپس جائیں۔خطاب کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا جو آیت ابھی میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی معاشرے کے چند گر بیان فرمائے ہیں۔اس سلسلہ کا پہلا زریں اصول جس کے بغیر صحیح تربیت نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔وہ ہے ”فَاتَّقُو اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا۔اور تقویٰ کا اصل مقام یہ ہے کہ ہر اس امر کے قریب سے بھی نہ گزرا جائے جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کاہلکاسا خدشہ پایا جاتا ہوں۔ایک صحیح اسلامی معاشرے کا دوسرا گر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ یعنی آپس میں ایک دوسرے کی اصلاح کرو۔کوئی قوم یا جماعت اس وقت تک ترقی کر ہی نہیں سکتی جب تک اس کے افراد ایک دوسرے کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دیں۔کسی کی پرواہ نہ کرنا اور صرف اپنی ذات سے سروکار رکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیم کے صریحاً خلاف ہے پس چاہیے کہ ہم میں سے ہر بچی اور ہر عورت پہلے خود عامل قرآن ہو۔تقویٰ کی بنیادوں کو مضبوطی سے تھامنے والی ہو۔اور پھر جب دیکھے کہ دوسروں میں اس قسم کی بُرائیاں پائی جاتی ہیں جن سے قرآن مجید نے منع فرمایا ہے تو ان کو پیار سے محبت سے اپنے آپ کو حقیر جانتے ہوئے حقیقت میں دل کی حلیم بن کر سمجھائے۔معاشرے میں خواتین خوش آئند فضا پیدا کرنے کا تیسرا اور چوتھا ذریں اصول ان الفاظ میں مضمر