خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 469
469 نئے اسلام لانے والوں میں اگر چہ قلیل تعداد میں لیکن بے حد مخلص اور قربانی دینے والی قابل رشک ہستیاں پیدا ہورہی ہیں۔اُن کی نظریں ہماری طرف ہیں کہ اس جماعت نے جو زمانہ کے مامور کو پہچانا ہے تو اس کے نتیجہ میں ان کی زندگیوں میں کیا انقلاب آیا ہے اور کیا ان کی زندگیاں اس تعلیم کے مطابق ہیں جن کا وہ زبان سے پر چار کر رہے ہیں۔اگر ان کو ہمارے قول اور ہمارے فعل میں تضاد نظر آیا۔تو اس کے دو ہی نتیجے پیدا ہو سکتے ہیں یاوہ احمدیت کی تعلیم سے بدظن ہو جائیں اور اگر ثابت قدم رہیں تو ہم سے نفرت کریں کہ ان کے ملک میں خدا کا نبی پیدا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو عظیم الشان نعمت عطا کی اور انہوں نے فائدہ نہ اُٹھایا۔اللہ تعالیٰ تو دلوں کے خلوص اور ان کی قربانیوں کو دیکھتا ہے۔جو قوم قربانیوں میں بڑھے گی۔اللہ تعالیٰ اس کو ترقی کا موقع دے گا۔حیرت ہے کہ جن باتوں سے آج مغربی اقوام بے زار نظر آ رہی ہیں۔ان کی ہم دلدادہ نظر آتی ہیں۔بے پردگی، عریانی، مخلوط تعلیم ،لغویات کا شوق، اسراف، رسومات کے پھندے یہ وہ امور ہیں جن کی اسلامی معاشرہ میں کوئی جگہ نہیں۔اور یہی وہ چیزیں ہیں جو تعلیم کے ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں۔ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعلیم کا عام چھ چاہے۔مگر تمہاری ماؤں کے تربیت اعلی نہ کرنے کی اور دینی تعلیم کا حقہ نہ دینے کی وجہ سے تمہارانمونہ قرآن کے مطابق نہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قریباً ڈیڑھ سال سے متواتر خطبات میں قرآن مجید ناظرہ اور باترجمہ پڑھنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔بے شک ایک حد تک مستورات نے اس تحریک پر لبیک بھی کہا ہے لیکن سو فیصدی ابھی کہیں عمل نہیں ہو رہا۔حالانکہ چاہیے یہ کہ ہر احمدی عورت اور ہراحمدی بچی قرآن کا ترجمہ جانتی ہو۔جب وہ اردو پڑھ سکتی ہے انگریزی پڑھ سکتی ہے دوسرے علوم سیکھ سکتی ہے لیکن قرآن کا ترجمہ نہیں سیکھتی دینی مسائل نہیں سیکھتی۔تو اس کی وجہ صرف مذہب سے عدم محبت اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت سے لا پرواہی ہے۔مذہب سے بیگانگی ہی نے موجودہ بے راہ روی مسلمان خواتین میں پیدا کی ہے جو ہم میں نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ ہم نے باقی مسلمانوں سے الگ ہوکر مامورزمانہ کو پہچانا ہے۔جس نے ہمیں پھر سے قرآن کی طرف بلایا۔اور قرآن کو ہمارا دستور العمل قرار دیا۔پس لجنہ اماءاللہ کی نمائندگان کو صرف چندے جمع کر کے نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ بڑا کام کر لیا ہے بلکہ سب سے ضروری اور اہم کام قرآن مجید کی تعلیم کو اس طرح رواج دینا ہے کہ کوئی احمدی عورت اور کوئی احمدی بچی قرآن مجید کے ترجمہ اور دینی مسائل سے ناواقف نہ رہے۔دوسرا بہت ہی اہم کام جو ہماری اہم ذمہ داری ہے تربیت کا ہے۔قوم کی بچیوں کی صحیح تربیت کا نہ ہونا