خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 455 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 455

455 لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفے ﷺ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔“ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 101 آپ کے باون سالہ دور خلافت کے ایک ایک دن ایک ایک رات بلکہ ایک ایک لمحہ نے گواہی دی کہ آپ کے ذریعہ کلام اللہ کا مرتبہ دنیا پر ظاہر ہوا اور جو علوم کے خزائن حضرت مسیح موعود علیہ السلام لائے تھے آپ نے ان کے دریا بہا دئے۔قرآن مجید کی تفاسیر کا ایک خزانہ آپ ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں جن سے فائدہ اٹھانا احباب جماعت کا کام ہے۔آپ کو دنیا کی کسی چیز کی خواہش نہ تھی بلکہ ہر وقت یہ دعا تھی ایمان مجھ کو دیدے۔عرفان مجھ کو دیدے پھر آپ نے فرمایا قربان جاؤں تیرے۔قرآن مجھ کو دیدے ہو جائیں جس سے ڈھیلی سب فلسفہ کی چولیں میرے حکیم! ایسا بُرہان مجھ کو دیدے۔( کلام محمود ص : 1 17 ) گناہ گاروں کے درددل کی بس اک قرآن ہی دوا ہے یہی ہے خضر یہ طریقت یہی ہے ساغر جو حق نما ہے تمام دنیا میں تھا اندھیرا کیا تھا ظلمت نے یاں بسیرا ہوا ہے جس سے جہان روشن وہ معرفت کا یہی دیا ہے آپ نے دعا فرمائی کہ ( کلام محمود ص: 17 ) خدا سے میری یہ کر شفاعت کہ علم و نو ر و ہدی کی دولت مجھے بھی اب وہ کرے عنایت یہی مری اُس سے التجا ہے (کلام محمد ص: 20) حضرت مصلح موعود کا یہ شعر 1907ء کا ہے جبکہ آپ کی عمر صرف ۱۹ سال کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعاسنی اور خود آپ کے لئے معلم قرآن بنا۔اپنے فرشتہ کے ذریعہ آپ کو سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھائی۔آپ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا نام اور قرآن مجید کی تعلیم دنیا کے کونہ کونہ تک پہنچی اور قوموں نے برکت پائی۔ایک اور تقریر میں آپ نے جماعت کو توجہ دلائی کہ پس اے دوستو! میں اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان خزانہ سے تمہیں مطلع کرتا ہوں دنیا کے