خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 454
جس کا ہے نام قادر اکبر 454 نیز آپ فرماتے ہیں۔اس کی ہستی سے دی ہے پختہ خبر کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے پھر تو کیا کیا نشان دکھاتا ہے۔جمال وحسن قرآن نور جانِ ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآن ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت مولانا نور الدین صاحب پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ کا دور خلافت اگر چہ مختصر تھا لیکن اس سارا عرصہ میں آپ کی پوری توجہ قرآن پڑھانے اور قرآن کی تعلیم کا چرچا کرنے میں لگی رہی۔یہاں تک کہ اپنے جانشین کے متعلق بھی آپ نے وصیت فرمائی که قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔آپ کی سیرت کا نمایاں پہلو عشق قرآن تھا۔آپ خود فرماتے ہیں میں نے دوسری کتابیں پڑھی ہیں اور بہت پڑھی ہیں مگر اس لئے نہیں کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں وہ مجھے پیاری ہیں بلکہ محض اس نیت اور غرض سے کہ قرآن کریم کے فہم میں معاون ہوں۔“ پھر آپ فرماتے ہیں۔مجھے قرآن مجید سے محبت ہے اور بہت محبت ہے۔قرآن مجید میری غذا ہے۔میں سخت کمزور ہوتا ہوں قرآن مجید پڑھتے پڑھتے مجھ میں طاقت آجاتی ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی تڑپ :۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جماعت نے حضرت مزرا بشیر الدین محمود احمد کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا اور تاریخ احمدیت کا وہ دور شروع ہوا جو حقیقت میں ایک سنہری دور کہلانے کا مستحق ہے۔آپ کی ولادت سے بھی بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتا دیا تھا۔خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کی پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں