خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 453
453 دیں اور حقیقت کی طرف دوڑیں۔(روحانی خزائن جلد 10 اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 442) اسی طرح آپ نے فرمایا۔سب سے سیدھی راہ اور بڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھرا ہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی علمی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے جو تمام دنیا کے دینی نزاعوں کے فیصل کرنے کا متکفل ہو کر آیا ہے جس کی آیت آیت اور لفظ لفظ ہزار ہا طور کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے اور جس میں بہت سا آب حیات ہماری زندگی کے لئے بھرا ہوا ہے اور بہت سے نادر اور بیش قیمت جواہر اپنے اند مخفی رکھتا ہے۔جو ہر روز ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 3 ازالہ اوہام ص 381) اسی طرح آپ فرماتے ہیں۔قرآن شریف وہ کتاب ہے جس نے اپنی عظمتوں، اپنی حکمتوں، اپنی صداقتوں ، اپنی بلاغتوں اپنے لطائف ونکات اپنے انوار روحانی کا آپ دعویٰ کیا ہے اور اپنا بےنظیر ہونا آپ ظاہر فرما دیا ہے۔۔۔اس کے دقائق تو بحر ذخار کی طرح جوش مار رہے ہیں اور آسمان کے ستاروں کی طرح جہاں نظر ڈالو چمکتے نظر آتے ہیں۔کوئی صداقت نہیں جو اس سے باہر ہو۔کوئی حکمت نہیں جو اس کے محیط بیان سے رہ گئی ہو۔کوئی نور نہیں جو اس کی متابعت سے نہ ملتا ہو۔“ روحانی خزائن جلد 1 براہین احمدیہ حاشیہ اصفحہ 663,662) اپنی تحریرات کی رو سے نثر کے علاوہ اپنے اشعار میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید کی فضلیت اور اس کا زندہ کتاب ہونا ظاہر فرمایا ہے۔قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے بے اس کے معرفت کا چمن نا تمام ہے اسی طرح آپ فرماتے ہیں: اے عزیز و اسنو کہ بے قرآں حق کو پاتا نہیں کبھی انساں جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں اُن پہ اُس یار کی نظر ہی نہیں ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر کہ بناتا ہے عاشق دلبر