خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 452 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 452

452 آپ کی بعثت کا مقصد يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ (بر این احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 496 روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 500) ہے یعنی آپ کے ذریعہ سے اسلام پھر اپنی اصل شکل میں ظاہر ہوگا اور پھر دنیا قرآن کی تعلیم پر عمل کرنے میں ہی اپنی نجات سمجھے گی آپ کی شدید تڑپ تھی کہ لوگ قرآن کی طرف آئیں اور اس کے لئے آپ دعا بھی فرماتے تھے۔فرماتے ہیں اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بیچار آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح کے متعلق فرمایا تھا وہ مال و دولت کے دریا بہا دے گا۔وہ یہی قرآنی علوم کے دریا تھے جو آپ نے بہائے جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں۔وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آواز بلند کی کہ قرآن زندہ کتاب ہے۔اسلام زندہ مذہب ہے اور آنحضرت ﷺ زندہ نبی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور سیرت پر اگر غور کیا جائے تو تین ہی باتیں آپ کی زندگی کا خلاصہ نظر آتی ہیں۔محبت الہی ، عشق رسول ، اور عشق قرآن۔آپ خود بھی فرماتے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گردگھوموں کعبہ میرا یہی ہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی قرآن مجید کی فضلیت کو ثابت کرنے اور اس کے خزائن تقسیم کرنے میں گذری۔آپ نے قرآن مجید کی آیات کی ایسی تفاسیر دنیا کے سامنے پیش کیں کہ مخالفین اسلام کو لا جواب کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن کی برکات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ہم اس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا۔(روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 65 کتاب البریہ ) پھر آپ فرماتے ہیں: وہ خدا جس کے ملنے میں انسان کی نجات اور دائمی خوشحالی ہے وہ بجز قرآن شریف کی پیروی کے ہرگز نہیں مل سکتا۔کاش جو میں نے دیکھا ہے لوگ دیکھیں اور جو میں نے سنا ہے وہ سنیں اور قصوں کو چھوڑ