خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 448 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 448

448 نے کامل کتاب قرآن مجید کی صورت میں آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائی۔ایک ایسی کتاب جو پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے کے لحاظ سے بہت آسان ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنا مشکل ہے وہ غلط کہتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَقَدْ يَسِّرُنَا الْقُرْآنَ لِلدِّكُرُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ۔القمر : 18 قرآن مجید کو ہم نے آسان بنایا ہے پڑھنے کے لحاظ سے بھی آسان سمجھنے کے لحاظ سے بھی آسان اور عمل کرنے کے لحاظ سے بھی آسان۔لیکن ساتھ ایک شرط ہے إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِى كِتَابٍ مَّكْنُونِ لَا يَمَسُّةِ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔الواقعة : 78تا80 اس کے پر دے وہی اٹھا سکتا ہے جو پاک دل ہو اور پاک روح اپنے اندر رکھتا ہو۔سچی نیت کے ساتھ قرآن سیکھنے کا جو ارادہ کرے گا قرآن کے معارف اس کے لئے کھلتے جائیں گے۔ذَالِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرہ : 3) کی آیت بھی اسی مضمون پر روشنی ڈالتی ہے کہ یہ کتاب ہر قسم کے اعتراضات اور شکوک سے بالا تر ہے اگر کسی کے دل میں کوئی اعتراض پیدا ہو گا تو اسی کتاب میں ہی اس کو اس کا جواب مل جائے گا۔لیکن اس کی معرفت حاصل کرنے کے لئے تقویٰ کی شرط ہے۔تقویٰ اختیار کرو۔یہ کتاب تمہاری راہنمائی کرتے کرتے اعلیٰ مدراج تک پہنچا دے گی۔تقویٰ کی تفصیل میں جانے کا تو وقت نہیں ایک واقعہ سے تقویٰ کا صحیح مفہوم سمجھ میں آجاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال کیا کہ تقویٰ کسے کہتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ کانٹوں والی جگہ پر سے گز رو تو کیا کرتے ہو اس نے کہا یا اس سے پہلو بچا کر چلا جاتا ہوں یا اس سے پیچھے رہ جاتا ہوں یا آگے نکل جاتا ہوں انہوں نے کہا بس اسی کا نام تقویٰ ہے یعنی انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مقام پر کھڑا نہ ہو اور ہر طرح اس جگہ سے بچنے کی کوشش کرے۔ایک شاعر ابن المعتز نے ان معنوں کو لطیف اشعار میں نظم کیا ہے وہ کہتے ہیں۔خَلِ الذُّنُوبَ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا ذَاكَ التقى وَاصْنَعُ كَمَاشِ فَوْقَ اَرْضِ الشَّوْكِ يَحْذَرُ مَايَرى لَاتَحْقِرَنَّ صَغِيرَةً إِنَّ الْجِبَالَ مِنَ الْحِـــــى (تفسير ابن كثير جزء 1 ص (41 یعنی گناہوں کو چھوڑ دے خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے یہ تقویٰ ہے اور تو اس طریق کو اختیار کر جو