خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 420 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 420

420 رخصت کر دیں۔اور ہمارے معاشرہ کی یہ شادیاں نمونہ بن جائیں تمام عالم اسلام کے گھرانوں کے لئے۔مگر ابھی تک سو فیصد حضرت مصلح موعود کے اس فرمان پر جماعت کے احباب عمل نہیں کر رہے بہت سے گھرانوں میں اب بھی شادی کے کارڈوں پر باقاعدہ عصرانہ اور طعام کے الفاظ چھپے نظر آتے ہیں۔پھر بعض گھرانے صرف شادی کی دعوت طعام پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ مہندی والے دن بھی چائے یا کھانا دینا ضروری سمجھتے ہیں اور اس طرح جو غرض سادگی اختیار کرنے کی حضرت مصلح موعود کے ارشاد میں تھی وہ پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔شادی کے موقعہ پر بہت مہنگے کارڈ چھپوانا بھی اسراف میں داخل ہے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مستورات کو خطاب فرماتے ہوئے کہا تھا:۔اس سال بعض واقعات ( گو وہ تھوڑے ہیں) جماعت میں ہوئے ہیں جن کی وجہ سے میرے لئے ضروری ہے کہ میں آپ میں سے ہر ایک کو تنبیہہ کر دوں۔شادی بیٹے کی تھی یا بیٹی کی بعض افراد نے خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف نمائش اور رسوم کو اختیار کیا اور اتنا قرض اٹھا لیا کہ بعد میں انہیں یہ کہنا پڑا کہ ہمارے چندوں میں تخفیف کی جائے۔اگر یہ صورت تھی تو تم نے ان بد رسوم اور نمائش کو اختیار ہی کیوں کیا تھا کہ اس کی وجہ سے آج تم ثواب سے محروم ہو رہے ہو۔اس کے اور بھی نقصانات ہیں صرف وقتی طور پر ہی ان کی وجہ سے نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس کے نقصانات کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے جس میں سے انسان کو گزرنا پڑتا ہے تمہاری زندگی میں کوئی اسراف نہیں ہونا چاہئے تمہاری زندگی میں کوئی رسم نہیں ہونی چاہئے۔“ تقریر بر موقع سالانہ اجتماع لجنه مرکز یہ 22 اکتوبر 1969ء پس ہمیں قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے شادی کی سب فضول رسوم ترک کر دینی چاہئیں۔جہاں مطالبات پورے کئے جائیں گے آپس میں اخوت کا خاتمہ ہو جائے گا وہ محبت اور پیار جوان رشتوں کی بقا کا موجب ہوتا ہے جن کی اساس پر آئندہ تعلقات کی بنیاد پڑتی ہے وہ جاتا رہے گا اور ہمارے معاشرہ کی فضا پر امن اور صاف نہیں رہے گی جس کا تقاضا اسلامی معاشرہ کرتا ہے۔شادی کی تقریب پر ایک ضروری چیز گانا بجانا کبھی گئی ہے جہاں تک خوشی کی تقریب میں خوشی کے گانے گائے جانے کا سوال ہے یہ جائز ہے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بچیوں کا گیت گانا ثابت ہے اس سلسلہ میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ارشادات تحریر کرتی ہوں۔