خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 419 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 419

419 طرف توجہ کریں تو بہت جلد اصلاح ہو سکتی ہے اگر وہ یہ عہد کر لیں کہ ہر ایسی شادی جس میں فریقین میں سے کسی کی طرف سے بھی ایسی شرطیں عائد کی گئی ہوں تو ہم اس میں شریک نہ ہوں گے تو دیکھ لوتھوڑے ہی عرصہ میں وہ لوگ ندامت محسوس کرنے لگیں گے اور ان شنیع حرکات سے باز آجائیں گے بھلا اس سے زیادہ اور کیا ذلیل کن بات ہو سکتی ہے کہ لڑکیوں کے چارپایوں کی طرح سودے کئے جائیں اور منڈی میں رکھ کر ان کی قیمت بڑھائی جائے۔پس ہماری جماعت کو ایسی شفیع حرکات سے بچنا چاہئے اور عہد کرنا چاہئے کہ ایسی شادی میں کبھی شامل نہ ہوں گے خواہ وہ سگے بھائی یا بہن کی ہی ہو۔“ (الفضل 18 اپریل 1947ء﴾ لڑکی کی شادی میں کھانا یا چائے دینے سے منع فرمایا تا کہ صرف دعا میں کثرت سے لوگ شامل ہوں۔سوائے اس کے کہ لڑکی کی بارات کسی دوسرے شہر سے آ رہی ہو۔لڑکی کی شادی کے موقع پر چائے یا کھانا دینے میں بظاہر کوئی حرج نہیں۔گھر آئے مہمان کی مہمان نوازی کرنا اسلام کا ایک حکم ہے لیکن یہ سمجھ لینا کہ ضرور کھلایا جائے یہ بدعت ہے اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود کا ارشاد مندرجہ ذیل ہے:۔لڑکی والوں کی طرف سے دعوت جہاں تک میں نے غور کیا ہے ایک تکلیف دہ چیز ہے لیکن اگر لڑکی والے بغیر دعوت کے آنے والوں کو کچھ کھلا دیں تو یہ ہر گز بدعت نہیں ہاں اگر یہ کہا جائے جو نہیں کھلاتا وہ غلطی کرتا ہے تو یہ ضرور بدعت ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے لڑکی کو کچھ دیتا ہے یا آنے والے مہمانوں کو کچھ کھلاتا ہے تو یہ ہر گز بدعت نہیں کہلا سکتی۔خود حضرت اقدس) نے مبارکہ بیگم کی شادی پر بعض چیزیں اپنے پاس سے روپے دے کر آنے والے مہمانوں کے لئے امرتسر سے منگوائیں جو شخص یہ سمجھ کر کہ ایسا کرنا ضروری ہے ایسا کرتا ہے وہ بدعتی ہے لیکن جو شخص اپنے فطری احساس اور جذبہ کے ماتحت آنے والوں کی کچھ خاطر کرتا ہے اسے بدعت نہیں کہا جاسکتا۔“۔۔۔۔۔۔اقتباس تقریر حضرت مصلح موعود 15 مئی 1930 ء ) میں سمجھتی ہوں کہ شادی بیاہ کی تقریبات کے سلسلہ میں مذکورہ بالا اقتباسات جماعت کی خواتین کی راہ نمائی کرنے کے لئے کافی ہوں گے۔لیکن تحریک جدید جاری کرنے کے بعد جماعت کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے اور اس لئے کہ امیر و غریب سب اپنے بھائی کی بچی کی شادی میں شرکت کر سکیں۔امیر وغریب کا تفاوت باقی نہ رہے آپ نے حکم دیا کہ احباب جماعت سادگی کے ساتھ رخصتانہ کی تقریب کر دیا کریں سب بھائی بہنیں شادی والے گھرانہ کی خوشی کی تقریب میں شرکت کرلیں دعا کے ساتھ بچی کو