خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 418
418 مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہمارے اندر ایک بدی آ رہی ہے۔اسے روکنے کی کوشش کی جائے۔ہم کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتے کہ شادی بیاہ پر اتنی رقم خرچ کی جائے یا ضرور اتنے ہی مہمان مدعو کئے جائیں ہاں نمائش اور ریاء سے روک سکتے ہیں اور اس پر پابندیاں لگا سکتے ہیں چونکہ کثرت آراء اس کے حق میں ہیں اس لئے میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں نمائش اور ریاء سے ہمارے دوستوں کو ہمیشہ بچنا چاہئے اس کا دوسروں پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔“ رپورٹ مجلس مشاورت 1942 ء صفحہ 23 24 رسم مهندی کی ممانعت: حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے شادی پر مطالبات ممنوع قرار دیئے جانے کی تجویز اور مہندی کی رسم کی ممانعت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا:۔میں نے حضرت (اماں جان) سے اس کے متعلق دریافت کر لیا ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ حضرت۔۔۔(اقدس) کے زمانہ میں مہندی کی رسم نہ کبھی ہمارے ہاں ہوئی اور نہ آپ کے زمانہ میں قادیان میں کسی اور احمدی کے ہاں یہ رسم ادا ہوئی۔لیکن اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ عام ہورہی ہے۔۔وو اب یہ ایک رسم کی صورت اختیار کر گئی ہے اس لئے اسے روکنا ہمارا فرض ہے آپ نے فرمایا:۔۔۔۔۔یہ رسوم ایسی صورت اختیار کرتی جارہی ہیں کہ خطرہ ہے کہ وہ جز وشریعت نہ بن جائیں اس لئے ان کارو کنا ہمارا فرض ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1942 صفحہ 25 1947ء کی مجلس مشاورت کے موقع پر جماعت کی تمدنی اصلاح کی خاطر شادیوں میں زیادہ چھان بین کرنے اور کپڑے زیور کے مطالبات کرنے والوں سے حضرت مصلح موعود نے اظہار نفرت کرتے ہوئے فرمایا:۔شادیوں کے معاملہ میں زیادہ چھان بین اور کرید لغو ہے خدا نے مرد عورت کا جوڑا بنایا ہے اور وہ بہر حال مل بیٹھیں گے۔شادی اللہ تعالیٰ کا قانون اور انسانی فطرت میں داخل ہے۔“ (الفضل 18 اپریل 1947 ء ) نیز آپ نے فرمایا:۔و لیکن اس میں بعض دفعہ ایسی غیر معقول باتیں کرتے ہیں اور ایسی لغو شرطیں لگا دیتے ہیں کہ حیرت آتی ہے مثلاً بعض لوگ جہیز کی شرطیں لگاتے ہیں اتنا سامان ہو تو ہم شادی کریں گے۔یہ سب لغو ہے میں متواتر سالہا سال سے جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ ان کی اصلاح کی جائے۔اگر جماعت کے لوگ اس