خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 398
398 وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَ عَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الاعراف: 158) ترجمہ :۔وہ (لوگ) جو ہمارے اس رسول ( یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرتے ہیں جو نبی ہے اور امی ہے جس کا ذکر تو رات اور انجیل میں ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہے وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بُری باتوں سے روکتا ہے اور سب پاک چیزیں ان پر حلال کرتا ہے اور سب بُری چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے بوجھ ( جو ان پر لا دے ہوئے تھے ) اور طوق جوان کے گلوں میں ڈالے ہوئے تھے وہ ان سے دور کرتا ہے۔پس وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے اور اس کو طاقت پہنچائی اور اس کو مدددی اور اس نور کے پیچھے چل پڑے جو اس کے ساتھ اتارا گیا تھا وہی لوگ بامراد ہوں گے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان ہر کام میں یہ مد نظر رکھے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع کر رہا ہے یا نہیں۔آپ کی اتباع سے ہی وہ نیک کام کر سکے گا۔پاک چیزوں اور پاک باتوں کو اختیار کر سکے گا۔اور بُرے کاموں سے مجتنب رہے گا۔یہی تقویٰ کا حقیقی مقام ہے جو آنحضرت ﷺ کی کامل اطاعت اور پیروی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔آنحضرت ے کے طریق پر چلنا سنت ہے اور اس کو چھوڑ کر کوئی اور طریق اختیار کرنا بدعت۔سنت اور بدعت میں فرق :- حضرت اقدس موعود امام آخر الزمان سنت اور بدعت کا فرق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں: غرض اس وقت لوگوں نے سنت اور بدعت میں سخت غلطی کھائی ہوئی ہے اور ان کو ایک خطرناک دھو کہ لگا ہوا ہے وہ سنت اور بدعت میں کوئی تمیز نہیں کر سکتے۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر خود اپنی مرضی کے موافق بہت سی راہیں خود ایجاد کر لی ہیں اور ان کو اپنی زندگی کے لئے کافی راہ نما سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ان کو گمراہ کرنے والی چیزیں ہیں۔جب آدمی سنت اور بدعت میں تمیز کر لے اور سنت پر قدم مارے تو وہ خطرات سے بچ سکتا ہے لیکن جو فرق نہیں کرتا اور سنت کو بدعت کے ساتھ ملاتا ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہو سکتا۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 389 ) پھر آپ فرماتے ہیں:۔اعمال صالحہ کی جگہ چند رسوم نے لے لی ہے اس لئے رسوم کے توڑنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ