خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 392 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 392

392 کہ میرے لئے آج کا دن عید کا دن ہے۔کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ بہت ہی کم عورتیں ترجمہ جانتی ہوں گی۔لیکن آج کا دن میرے لئے ایک نہایت ہی خوشی کی خبر لانے والا دن ہے کہ عورتوں کی ایک خاصی تعداد تر جمہ جانتی ہے لیکن میرے لئے حقیقی عید کا دن وہی ہو گا جس دن ہر احمدی عورت قرآن مجید کا تر جمہ جان لے گی۔آپ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلافت کے شروع ہی سے قرآن مجید ناظرہ کی طرف زور دیا آپ نے فرمایا کہ ہر عورت اور ہر بچی کو قرآن مجید ناظرہ آنا چاہئے۔آپ کے ارشاد کے مطابق لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے تمام لجنات سے ایسے فارم پر کروائے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ کتنی فی صدی عورتیں اور بچیاں ناظرہ جانتی ہیں۔بے شک ہماری جماعت میں بہت قلیل تعداد ایسی ہے جو ناظرہ نہیں جانتی۔لیکن یہ بھی ایک افسوس ناک امر ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ تعلیم عام ہے اور شہر میں ڈھونڈے سے بھی شاید ہی ایسی عورت ملتی ہو جو اردو لکھنا پڑھنا نہ جانتی ہو۔اس کے باوجود عورتوں کی کچھ ایسی تعدا د نکل آئے جو قرآن مجید ناظرہ نہ جانتی ہو اگر اس کی عمر 40 یا 50 سال کی بھی ہو چکی ہو تب بھی وہ پڑھنے کی کوشش کریں۔قرآن مجید کوئی ایسی بڑی کتاب نہیں کہ چند مہینوں میں محنت کے ساتھ ختم نہ کی جا سکے۔قرآن مجید پڑھنے میں بہت آسان کتاب ہے۔خود خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو بہت آسان بنایا ہے۔اس کا پڑھنا بھی آسان اور اس کا لکھنا بھی آسان اور اس پر عمل کرنا بھی آسان۔بشرطیکہ دل میں اخلاص ہو۔دل میں اطاعت کا جذبہ ہو کہ ہم نے قرآن کے مطابق چلنا ہے پھر جب آپ کی سو فیصدی عورتیں ناظرہ پڑھ جائیں تو آپ کی دوسری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہماری بچیاں اور ہماری بہنیں قرآن مجید کے ترجمے سے واقف ہوں۔ہو سکتا ہے بڑی عمر کی عورتوں کے لئے پڑھنا مشکل ہو۔لیکن وہ بچیاں جو کالجوں اور سکولوں میں پڑھتی ہیں جو حساب کے مشکل سے مشکل سوالات حل کر لیتی ہیں جو فزکس اور کیمسٹری کے سبق یاد کر لیتی ہیں۔جو سیاسیات اور نفسیات پر عبور حاصل کر لیتی ہیں جو تاریخ اور جغرافیے کے صفحے کے صفحے رٹ لیتی ہیں کیا وہ قرآن مجید کا ترجمہ یاد نہیں کرسکتیں اگر دو دو یا تین تین آیتیں روز یاد کر لی جائیں تو چند مہینے میں قرآن شریف کا ترجمہ یاد ہو سکتا ہے۔اگر چند مہینے تھوڑے ہوں تو ایک یا دو سال میں قرآن کا ترجمہ پڑھ سکتے ہیں۔یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔صرف نیت کی ضرورت ہے صرف ارادے کی ضرورت ہے صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ ماں باپ کو یہ احساس ہو کہ ہماری بچی صرف میٹرک کا امتحان نہیں دے گی بلکہ قرآن مجید بھی ساتھ پڑے گی۔ہماری بچی صرف ایف۔اے اور بی اے کا امتحان ہی نہیں دے گی بلکہ ہم نے یہ نگرانی بھی کرنی ہے کہ وہ قرآن پڑھ رہی ہے