خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 391 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 391

391 جائے گا ہمارا تقویٰ جائے گا۔ہمارے نیک اعمال اور نیک اخلاق کی تعلیم سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم سے ہر احمدی عورت اور ہر احمدی بچی واقف ہو کیونکہ صرف ناظرہ پڑھ لینے سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ قرآن کس بات کا حکم دیتا ہے اور کس بات سے منع کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص قرآن کے سات سو حکموں میں سے ایک حکم بھی تو ڑتا ہے اس کو اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہئے۔" اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشتی نوح میں فرمایا کہ جو قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سارا مشن ہی یہ تھا کہ کس طرح ساری دنیا حضرت رسول اکرم ﷺ کی غلامی میں آجائے۔آنحضرت ﷺ کا جھنڈا ساری دنیا میں لہرانے لگے اور تمام دنیا قرآن کو مان لے۔آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوا۔خلیفہ اول نے اپنی ساری زندگی قرآن اور حدیث سکھانے میں صرف کی۔آپ کی بڑی کوشش تھی کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں اپنی تعلیم میں کمزور نہ رہ جائیں۔وہ قرآن مجید کی تعلیم سے واقف رہیں۔آپ کے بعد حضرت مصلح موعود کا زمانہ آیا آپ نے اپنے باون سالہ دور خلافت میں جس قدر کوشش اور محنت کی اس کے متعلق مجھے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔تفسیر صغیر کے صفحات تفسیر کبیر کے صفحات اور آپ کی تمام دوسری کتابوں کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ جس طرح آپ کی پیدائش سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ور تمہیں ایک ایسا بیٹا دیا جائے گا جس کے ذریعے سے کلام اللہ کا مرتبہ بلند ہوگا۔“ یہ پیشگوئی کس آن وشان سے پوری ہوئی۔آپ کے دور خلافت میں قرآن مجید کے ترجم مختلف زبانوں میں شائع ہوئے اور دوسرے ملکوں میں بھیجے گئے۔اور یہ پیشگوئی بھی کس شان سے پوری ہوئی۔کہ وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔“ 66 آپ نے شاید ہی کوئی ایسی عورتوں میں تقریر کی ہو یا ایسا خطبہ دیا ہو جس میں عورتوں کی توجہ اس طرف نہ دلائی ہو کہ قرآن شریف کو ترجمے سے پڑھو۔ایک دفعہ 1944ء کی بات ہے کہ میں بھی اس جلسہ میں شامل تھی۔حضرت مصلح موعود نے ساری احمدی عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔کہ وہ بہنیں جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہوں کھڑی ہو جائیں۔جب وہ عورتیں کھڑی ہو ئیں گو ان کی تعداد زیادہ نہ تھی لیکن پھر بھی آپ نے کہا