خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 390 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 390

390 دی کہ قرآن کے مطابق ہی زندگیاں ڈھالو۔تمہاری زندگیاں قرآن مجید کی تفسیر ہونی چاہئیں جس طرح آنحضرت ﷺ کے ذریعے خدا نے قرآن شریف میں کہا ہے کہ میری تمام زندگی میری تمام عبادتیں ، میری تمام دعائیں، میرا دنیا سے سلوک ، دنیا داروں کے معاملات ایسے معاملات جو دیکھنے میں دنیا کے معاملات نظر آتے ہیں لیکن ان میں مخلوق کی بہبودی ہے۔یہ سب خدا کے لئے ہے جو رب العالمین ہے۔جو ہر انسان کا رب ہے۔جس کو ہر انسان کی بھلائی کی لگن ہے اور جو چاہتا ہے کہ میرے بندے مجھ تک پہنچیں۔قرآن مجید پر ہی عمل کرنے سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے۔مسلمان قرآن پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے جب مسلمانوں کے پاس مال و دولت آ گئی۔اور انہیں حکومتیں مل گئیں تو انہوں نے یہ سمجھا کہ ہمارا غلبہ ساری دنیا پر ہو چکا ہے۔اب ہمیں قرآن کی تعلیم کے مطابق عمل کی ضرورت نہیں۔انہوں نے عقید تا تو قرآن مجید کو سب سے عزت والا سمجھا۔اس کی ظاہری تو بڑی عزت کی لیکن اس کی تعلیم کو بھلا دیا۔یہاں تک کہ ان کے بچے قرآن شریف کا ناظرہ بھی نہیں جانتے۔لیکن ہمارا خدا بڑا ہی پیار کرنے والا خدا ہے۔وہ بہت محبت کرنے والا خدا ہے۔وہ کبھی بھی اپنے بندوں کو گمراہ نہیں چھوڑتا۔جب کبھی خدا کے بندے گمراہ ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی راہنما کو کسی نہ کسی اپنے پیارے بندے کو کھڑا کر دیتا ہے جولوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے جولوگوں کو آنحضرت ﷺ کی تعلیم کی طرف بلاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہاما بتایا گیا تھا کہ آنے والے مسیح موعود کا یہ کام ہے کہ وہ پھر سے دین محمد کو زندہ کرے گا۔قرآن شریف کی تعلیم کو دنیا میں جاری کرے گا۔چنانچہ یہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے ہم پر کہ ہم نے مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے سے زندہ خدا کو دیکھا اور آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ کا مشاہدہ کیا۔لیکن ہماری آئندہ ترقی بھی اور ہماری جماعت کی ترقی بھی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم صرف قرآن پڑھنے والے ہی نہ ہوں بلکہ اس کو سمجھنے والے بھی ہوں۔اس کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے والے ہوں۔ورنہ قرآن شریف کو خالی پڑھ لیتا ہی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔قرآن کا نام ہی اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ یہ بار بار پڑھا جائے اور قرآن مجید میں ہی یہ پیشگوئی ہے کہ یہ کتاب ہر گھر میں پڑھی جائے گی ہر ملک میں پڑھی جائے گی اور ہر زمانہ میں پڑھی جائے گی اور ہمیشہ تک کے لئے مسلمانوں کی نجات کا راستہ اس سے وابستہ ہے۔قرآن کی تعلیم کی طرف سے بے پروائی کرنا انسان کی نجات کے لئے بڑا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔ہمیں اس دنیا سے مال و دولت یا اولا دساتھ لے کر نہیں جانا۔اگر ہمارے ساتھ جائے گا تو صرف قرآن شریف ہی