خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 389
389 خطاب تعلیم القرآن کلاس لجنه سرگودھا تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مجھے اس بات سے بہت مسرت حاصل ہوئی ہے کہ اس سال لجنہ اماء اللہ سرگودھا نے قرآن شریف کی تعلیم سکھنے کے لئے پوری توجہ اور شغف سے کام لیا ہے۔جو حاضری اس تعلیم القرآن کلاس کی بتائی جاتی ہے وہ نہایت خوشکن ہے۔لیکن پھر بھی میری عزیز بہنو! اور میری عزیز بچیو! ہمارے لئے وہی دن حقیقی خوشی اور عید کا دن ہو گا۔جس دن ہماری ایک ایک احمدی بہن اور ایک ایک احمدی بچی قرآن شریف کے مکمل ترجمے سے واقف ہوگی۔ہزاروں ہزار درود اور سلام حضرت رسول اکرم ﷺ پر جو قرآن جیسی نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے لائے اگر قرآن نازل نہ ہوتا تو ہم بھی اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے۔ہمیں زندہ خدا کا کچھ بھی پتہ نہ ہوتا یہ نبی کریم ﷺ کا ہی بابرکت وجود تھا جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ کامل شریعت یہ کمل نعمت امت محمدیہ کو عنایت فرمائی۔یہ اتنا بڑا انعام ہے اللہ تعالیٰ کا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔آنحضرت ﷺ پر جب قرآن شریف نازل ہوا۔آپ نے دنیا کو اس کی طرف بلایا۔ہر شخص جس نے اسلام قبول کیا اس نے قرآن مجید سیکھنا شروع کیا۔قرآن مجید سیکھنے سے یہ مطلب نہ تھا کہ وہ صرف اسے پڑھتے تھے یا حفظ کر لیتے تھے۔بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہماری ترقی اور نجات کے لئے یہ کامل تعلیم ہمیں ملی ہے۔یہ وہ کامل ضابطہ حیات ہے جو ہمارے ہر مسئلہ کا حل ہے۔قرآن مجید تمام علوم کا سر چشمہ ہے۔تمام علوم کا منبع ہے۔دنیا کا ہر علم اس کے آگے بیچ ہے۔دنیا کا ہر فلسفہ اس کے آگے پیچ ہے یہ وہ کامل نور ہے جو حضرت رسول اکرم ﷺ پر اس لئے نازل کیا گیا تا کہ ساری دنیا اس نور سے منور ہو۔لیکن جب مسلمان آہستہ آہستہ خدا کی تعلیم کو بھول گئے۔قرآن کریم کی ظاہری عزت تو کی لیکن اسے پڑھنا چھوڑ دیا۔اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنا چھوڑ دیا۔تو وہ قعر مذلت میں گرتے چلے گئے۔کیونکہ یہ ایک مسلمان کے لئے نہایت ضروری تھا کہ ان کی زندگی اسلام کے مطابق ہو۔جس طرح حضرت عائشہ نے کسی کے آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ کے متعلق سوال کرنے پر یہ بتایا کہ آنحضرت صلعم کے اخلاق فاضلہ قرآن مجید کی تفسیر تھے۔کیونکہ جو کچھ قرآن میں حکم تھا اسی تعلیم پر آپ خود عمل کرتے تھے۔آپ وہی تعلیم دیتے تھے۔جو قرآن مجید میں ہے۔یہی آپ نے مسلمانوں کو تعلیم