خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 375 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 375

375 کو آپ کے متبعین میں جاری رکھا۔حضرت مصلح موعود جیسا راہ نما جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا۔اور آپ کی وفات پر اس نے کشتی احمدیت کو بھنور میں پھننے سے بچالیا اور اس کشتی کو پار لگانے کے لئے اپنے وعدے کے مطابق مومنین کے قلوب کی تقویت کے لئے پھر ایک امام جماعت کو عطا کر دیا۔اور ان کے زخمی دلوں پر اپنے فضل کا سایہ رکھ کر پھر انکو تمکنت عطا فرما دی۔یہ بھی حضرت مصلح موعود کے احسانات میں سے ایک عظیم احسان جماعت احمدیہ پر ہے کہ آپ جب خلیفہ ہوئے تو جماعت نہایت کمزور حالت میں تھی۔لیکن آپ نے اپنے دور خلافت میں جماعت کے اندر خلافت پر نہایت مستحکم یقین اور ایمان پیدا کر دیا۔جب کبھی کسی نے نظام خلافت کے خلاف بغاوت کی آپ ایک تیغ براں کی طرح ان پر گرے اور ان کے غلط دلائل کو کاٹ کر رکھ دیا۔الحمد للہ آج کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔انہیں یقین ہے کہ الہی جماعتیں بغیر ایک خلیفہ کے کامیابی حاصل نہیں کر سکتیں۔اور ان کا ایمان ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں کے ایمانوں میں ترقی دے۔ان کا خلافت سے تعلق مضبوط تر ہوتا چلا جائے اور وہ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (النور: (56) میں سے نہ ہوں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنیں۔اور تا قیامت خلافت حقہ ان میں قائم رہے۔آمین خلافت ثالثہ اظہار عقیدت، وفاداری:۔خلافت ثالثہ کے بعد لجنہ اماءالل کا یہ پہلا اجتماع منعقد ہورہا ہے۔اس لئے آج اس اجتماع کے موقع پر میں تمام نمائندگان کی طرف سے جو تمام پاکستان کی لجنات کی نمائندگی کر رہی ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حضور اظہار عقیدت اور وفاداری پیش کرتی ہوں۔ہر احمدی عورت کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ وقت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جانشین سمجھے اور اس کے احکام کی اطاعت اسی طرح کرے جس طرح اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پاتی تو آپ کی اطاعت کرتی۔حضرت مصلح موعود نے لجنہ اماءاللہ کی تنظیم قائم کرتے ہوئے اس کے کچھ قوانین بھی مقرر فرمائے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اس امر کی ضرورت ہے کہ جماعت میں وحدت کی روح قائم رکھنے کے لئے جو بھی خلیفہ وقت ہو اس کی تیار کردہ سکیم کے مطابق اور اس کی ترقی کو مد نظر رکھ کر تمام کا روائیاں ہوں۔“ الازهار لذوات الخمار ص 53)