خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 368
368 اور تمام ان خیالات کو جو تو حید کے خلاف تھے۔آنحضرت ﷺ کی سنت کے خلاف تھے۔آنحضرت ﷺ کی شان کے خلاف تھے مٹا کر اسلام کا نکھرا روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔لہذا اس حقیقی اسلام کا حقیقی علم آپ تبھی حاصل کر سکتی ہیں جب حضرت اقدس کی کتب پر عبور حاصل ہو۔پس ان کتب کی قدر کریں کہ یہ خدا کے مسیح کا دیا ہوا تحفہ ہیں۔انہیں بار بار پڑھیں کہ ان کے پڑھنے سے قرآن مجید کے مطالب سمجھ آئیں گے۔میں امید کرتی ہوں کہ ہماری بچیاں جو تکالیف اٹھا کر لمبی مسافت طے کر کے یہاں آئی ہیں (اور یہاں بھی بہر حال گھر جتنا آرام تو انہیں میسر نہیں آیا ہو گا۔اب ان تمام علوم سے جو یہاں اپنے قیام کے دوران انہوں نے سیکھے ہیں۔ضرور استفادہ کریں گی اور آئندہ بھی حصول تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔فی الہال میں خود چند کتب کا انتخاب آپ کے لئے کرتی ہوں۔ان کو گھروں میں واپس جا کر پڑھیں اور مجھے بھی اطلاع دیتی رہا کریں۔کشتی نوح۔ایک غلطی کا ازالہ ازالہ اوہام - فتح اسلام۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔دعوت الا میر اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے علاوہ در مشین کے اشعار کی طرف بھی توجہ دیں کہ بے شمار علوم کے خزانے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار میں بھرے پڑے ہیں۔ان کے علاوہ جب آپ اپنے وہ نوٹس دوبارہ پڑھیں جو کلاس کے دوران آپ نے تیار کئے تھے تو ان میں جب بھی کوئی حوالہ آئے تو اس کو اصل کتاب میں سے نکال کر پڑھیں تا اس کے سیاق و سباق کا صحیح علم آپ کو ہو سکے۔پھر علم کو قائم رکھنے کے لئے اور اس میں وسعت پیدا کرنے کے لئے ایک اور ضروری چیز یہ ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے وَمِمَّا رَزَقْنهُم يُنفِقُون (البقرہ: 4) کہ حقیقی متقی وہ ہے کہ جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے۔اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اس موقع پر مجھے اپنا ایک زمانہ طالب علمی کا واقعہ یاد آ گیا ہے۔میٹرک کی بات ہے مکرمی صوفی غلام محمد صاحب ہمیں ریاضی کرایا کرتے تھے۔میں چونکہ اس مضمون میں ہوشیار تھی۔اس لئے اکثر لڑکیاں مجھ سے سوالات سمجھا کرتی تھیں۔ایک بار اپنی ناسمجھی سے میں نے سوال سمجھانے سے انکار کر دیا۔جب صوفی صاحب تشریف لائے تو لڑکیوں نے شکایت کر دی۔اس پر وہ مجھے کہنے لگے۔ذرا قرآن مجید تو لانا۔جب میں لے آئی تو اس کی یہی آیت تلاوت کرنے کے لئے کہا پھر اس کا مطلب سمجھایا اور فرمانے لگے کہ