خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 358
358 لاہور میں بڑی تعداد میں سکول ہیں۔غالباً یہاں کے ہر محلہ اور ہر کوچہ میں سکول ہوگا۔آخر ہمیں ایک نیا مدرسہ کھولنے کی کیوں ضرورت پیش آئی۔کیا ہم دوسرے سکولوں میں اپنی بچیاں نہیں بھیج سکتے تھے۔جہاں کی عمارتیں یہاں سے بہت اچھی جہاں کا سٹاف یہاں سے بہت زیادہ تربیت یافتہ۔جہاں کا فرنیچر یہاں سے بہتر اور دنیوی تعلیم بھی یقیناً بہت سے سکولوں کی یہاں سے بہتر ہوگی۔لیکن ایک نیا مدرسہ کھولنے کی غرض محض یہ تھی کہ ہماری بچیاں جن سے ہماری امیدیں وابستہ ہیں کہ بڑی ہو کر احمدیت کے لئے ٹھوس کام کریں گی اگر ان کی تعلیم اور تربیت ایسے ماحول میں ہو جو دینی نہ ہو۔جو روحانی نہ ہو اور وہ غلط ماحول میں رہ کر مغربیت کی رو میں بہہ گئیں تو احمدی بچیوں کی تعلیم کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔بیشک ابھی اس مدرسہ میں بچیوں کی تعداد کم ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جتنی بچیاں اس وقت یہاں موجود ہیں اگر انہی بچیوں کی صحیح رنگ میں تعلیم وتربیت کی جائے۔اسلامی اخلاق ان کے اندر پیدا کئے جائیں اور وہ کر داران کا بنانے کی کوشش کی جائے۔جو حضرت نصرت جہاں بیگم کا تھا تو آئندہ چند سال میں آپ کے پاس اتنی کارکن موجود ہوں گی کہ آپ کو جو شکایت اس وقت اچھی کارکنوں کے نہ ہونے کی ہے وہ دور ہو جائے گی۔اس لئے جہاں ہماری معلمات اردو عربی انگریزی، سائنس، تاریخ جغرافیہ وغیرہ پڑھاتی ہیں۔وہاں پر معلمہ خواہ وہ دینیات پڑھانے والی ہو یا اردو پڑھانے والی ہو یا حساب پڑھانے والی ہو اس کو اس فرض کا بھی پوری پوری طرح احساس ہونا چاہئے کہ میں نے صرف اپنے مضمون کی تعلیم ہی نہیں دینی بلکہ میں ہر رنگ میں اس کی تربیت اور دینی تعلیم کی بھی ذمہ دار ہوں۔اور اگر مجھ سے کوتاہی ہوئی تو یہ ایک گناہ عظیم ہو گا۔تعلیم کے ساتھ ساتھ بچیوں کے اخلاق کی نگرانی کرنا ان کے فرائض میں شامل ہے۔وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے بچیوں کو کورس ختم کروا دیا ہے اور یہ امتحان میں پاس ہو جائیں گی۔بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمارے ہاتھوں میں قوم نے اپنے بچوں کی باگ ڈور دی ہے۔اگر ہم نے ذرا بھی کوتاہی اور غفلت سے کام لیا تو ان بچیوں کے ماں باپ کو کس قد رصدمہ ہو گا۔اور ہماری اگلی نسل کی ترقی میں کمی واقع ہو جائے گی۔ہمارا تمدن وہ ہے ہمارے اخلاق کا معیار وہ ہے جو چودہ سو سال قبل آنحضرت ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔اگر بچپن سے ہی معلمات بچوں کو یہ سمجھائیں کہ سچ بولنا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ایک مسلمان اور احمدی بچہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ایک احمدی بچہ کبھی دوسرے سے دھوکہ نہیں کرتا۔ایک احمدی بچہ کبھی خیانت نہیں کرتا۔ایک احمدی بچہ کبھی جھگڑا لڑائی نہیں کرتا۔ایک احمدی بچہ صلح جو ہوتا ہے تو ناممکن ہے کہ یہ باتیں پتھر کی لکیر کی طرح ان کے دلوں میں راسخ نہ ہو جائیں۔اور آہستہ