خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 353
353 طرف سے یا ملنے جلنے والیوں یا ان کے مولویوں کی طرف سے بٹھا دئے گئے ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔احمدیت کے صحیح عقائد پیش کر کے ان پر واضح کریں کہ احمدیت کوئی نیامد ہب نہیں بلکہ صحیح اسلام کا ہی دوسرا نام ہے لیکن ان کے سامنے اسلام اور قرآن مجید کی تعلیم کو آپ اس وقت صحیح رنگ میں پیش کر سکتی ہیں جبکہ آپ کو خود قرآن آتا ہو۔آپ کو خود حدیث کا علم ہو۔آپ نے خود حضرت مسیح موعود کی کتب کا مطالعہ کیا ہو۔آپ کو خود تمام مسائل پر عبور حاصل ہو۔پورے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر پھر ان تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کا پہنچانا آپ کا فرض ہے آپ میں سے ہر ایک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کوشاں ہے کوئی انگریزی کا اور کوئی اردو کا کوئی تاریخ کا کوئی اقتصادیت کا کوئی معاشیات کا کوئی حساب کا کوئی جغرافیہ کا کوئی سائنس کا علم حاصل کرنے میں اپنے رات دن کا اکثر وقت خرچ کرتی ہیں۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ دن رات میں سے آٹھ دس گھنٹے روزانہ دنیوی علوم کی کتب رٹنے اور انہیں یاد کرنے میں تو خرچ کریں مگر اللہ تعالیٰ کی کتب جو تمام علوم کا سر چشمہ اور دنیاوی علوم اسی بے کنار سمندر کی نہریں ہیں کے پڑھنے کی طرف توجہ نہ دیں۔مشکل مشکل مسئلے جن کا آپ کی روز مرہ کی زندگی سے تعلق نہیں طوطے کی طرح رٹ کر پاس ہونے کی کوشش کرتی ہیں مگر قرآن مجید جس کا پڑھنا بھی آسان جس میں ہماری ہر الجھن کا حل ہے جو ہماری تمام زندگی کے لئے مشعل راہ ہے اس کے پڑھنے کے لئے دن کا نصف یا ایک گھنٹہ بھی آپ کو صرف کرنا مشکل کیوں؟ صرف احساس کی کمی۔دین سے بے گانگی۔قرآن مجید کی اہمیت کا واضح نہ ہونا۔پس میری بچیو۔آپ اپنے وقت میں سے روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے اور قرآن مجید کے مطالب پر غور و فکر کرنے میں خرچ کریں۔دین کا ہر علم اس میں ہے قرآن پڑھے اور سمجھے بغیر نہ آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو سکتا ہے جو انسان کی زندگی کی غرض وغایت ہے نہ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق آپ عمل کر سکتی ہیں جو آپ کی ترقی اور اصلاح کے لئے لازمی ہے نہ آپ کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ آپ کی ذمہ داریاں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عائد ہوتی ہیں اور جن کا بجالانا آپ کے لئے ضروری ہے ان سب کا تفصیلی ذکر قرآن مجید میں موجود ہے پس عزیز و۔قرآن ہی وہ واحد شمع ہے جس میں آپ کی روحانی ضرورت کا ہر سامان موجود ہے جس سے آپ اپنے قلوب بھی منور کر سکتی ہیں اور اس شمع کو ہاتھ میں لے کر قریہ قریہ۔گاؤں گاؤں۔شہر شہر تبلیغ کر سکتی ہیں۔گذشتہ دنوں کی بات ہے جب میں پشاور ڈویژن کے دورے پر گئی تو مردان میں ایک لیکچرر سے احمدیت کے متعلق میری بحث چھڑ گئی وہ کہنے لگی آپ کی بعض احمدی بچیاں تبلیغ تو کر لیتی ہیں اور ان کو تبلیغ کا