خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 352
352 بہت بڑا تغیر یہاں پیدا کر سکتی ہیں۔یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔صرف ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ پر تو نکل رکھتے ہوئے اور اس سے فضل اور نصرت چاہتے ہوئے کام کیا جائے ضرورت ہے کہ بچیوں کی مائیں ان کو قومی خدمت کے لئے ابھارتی رہیں ان کو دین سیکھنے کی تلقین کرتی رہیں ان کے قرآن مجید پڑھنے کا انتظام کریں ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی محبت پیدا کریں ان میں خلافت اور سلسلہ کی محبت پیدا کریں اور یہ جذبہ پیدا کریں کہ ان کا سب سے بڑا کام دین کی خدمت کرنا ہے۔کوئی قوم دنیا میں ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کی اگلی نسل پہلی نسل سے آگے قدم بڑھانے والی نہ ہو ہم میں سے ہر ایک کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اگر ہم نے اپنی بچیوں کی صحیح رنگ میں تربیت نہ کی۔اگر ہم نے اپنی جگہ لینے اور ہم سے بہتر کام کرنے اور قربانی دینے والیاں ان کو نہ بنایا تو ہماری پچھلی قربانیاں بھی رائیگاں جائیں گی۔چاہئے کہ ہم اس دنیا سے اس اطمینان کے بعد رخصت ہوں کہ ہماری آئندہ نسل ہمارے کام کو سنبھالنے کے لئے تیار ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔(الفرقان: 75) کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتی رہیں کہ خدایا ہماری اولا د اور ہماری قوم میں ایسے وجود پیدا فرما جو اپنی خدمات اپنی قربانیاں اپنی محبت دین اپنے اخلاص کے ذریعہ ہماری ٹھنڈک بنیں اور نہ صرف وہ ٹھنڈک بنیں بلکہ وہ امام ہوں ایک اگلی نسل کی جو متقی ہو۔آج یہ اجتماع اسی غرض سے منعقد ہوا ہے کہ میں نوجوان احمدی بچیوں کے سامنے ایک لائحہ عمل رکھوں تا وہ اسلام اور احمدیت کے لئے مفید وجود بن سکیں اور اس نظام کے قیام کی ایک کڑی بن سکیں جس کے قیام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی ایک غرض نئی زمین اور نئے آسمان کی تعمیر ہے سو آپ میں سے ہر ایک کا یہ کام ہے کہ وہ اس نظام کو قائم کرنے کے لئے پوری جد و جہد کرے۔آپ بھی مختلف درس گاہوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں آپ کو علم ہے کہ ہماری جماعت کی کتنی مخالفت ہوتی ہے اور احمدیت کے متعلق کتنی غلط فہمیاں لوگوں کے دلوں میں پائی جاتی ہیں۔غلط باتیں ہماری طرف منسوب کی جاتی ہیں پس آپ کا فرض ہے کہ آپ کے ساتھ آپ کی درس گاہوں میں جو دوسری طالبات پڑھ رہی ہیں ان سے تبادلہ خیالات کریں ان کے دلوں میں احمدیت کے متعلق جو غلط خیالات ماں باپ کی