خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 341 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 341

341 گزشتہ تیرہ سو سال میں کسی نے بیان نہیں کیا۔آپ کی کتب اور اشعار پڑھنے کے بعد ناممکن ہے کہ انسان کا دل اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بیگانہ رہ جائے۔چوتھی شرط: حسن سلوک :۔چوتھی شرط بیعت کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں یہ ہے:۔چہارم یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے یہ شرط بھی قرآن مجید کی اس تعلیم کے عین مطابق ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًا (النِّسَاء: 37) ترجمہ: اور تم اللہ کی عبادت کرو۔اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ بہت احسان کرو اور نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور اسی طرح رشتہ دار ہمسایوں اور بے تعلق ہمسایوں اور پہلو میں بیٹھنے والے لوگوں اور مسافروں اور جس کے تم مالک ہوان کے ساتھ بھی جو متکبر اور اترانے والے ہوں انہیں خدا تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔گویا اللہ تعالیٰ نے عملی طور پر دنیا کے ہر طبقہ سے حسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق نہ چھینو۔ہر وقت اپنے تصور میں یہ بات رکھو کہ جس طرح میں خدا کا بندہ ہوں اسی طرح دوسرے بھی خدا کے ہی بندے ہیں۔ان کو تکلیف پہنچنے سے خدا تعالیٰ کو تکلیف پہنچے گی۔اس کی تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دی جو میں پہلے بھی بیان کر چکی ہوں کہ حقیقی مسلمان وہ نہیں جو صرف نماز پڑھ لے روزہ رکھ لے چندے دے دے بلکہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی نہ زبان سے اور نہ ہاتھ سے کسی دوسرے مسلمان کو گزند پہنچے۔اسی طرح حضور علیہ السلام نے فرمایا لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لَا خِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (بخاری کتاب الایمان) تم میں سے کوئی ایمان دار نہ ہوگا یہاں تک کہ اپنے بھائی مسلمان کے لئے وہی چاہے جو اپنے لئے