خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 331 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 331

331 فرمایا تو پھر سنو کہ سب سے بڑا گناہ خدا تعالیٰ کا شرک ہے اور پھر دوسرے نمبر پر سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی اور ان کی خدمت کی طرف سے غفلت برتنا ہے اور پھر یہ بات کہتے ہوئے آپ تکیہ کا سہارا چھوڑ کر جوش کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا پھر اچھی طرح سُن لو کہ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔دوسری اور تیسری چیز جو اس شرط میں پیش کی گئی ہے وہ زنا اور بدنظری سے اجتناب ہے۔قرآن مجید سورہ ممتحنہ میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں سے بیعت لینے کا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا تو اس میں بھی تیسری شرط و لایزنین کے الفاظ سے بیان فرمائی۔بُرائی کی اشاعت کرنا بھی زنا کے اندر داخل ہے۔اگر ایک آدمی گناہ کرتا ہے۔اور کسی کو اس کا علم نہیں ہوتا تو وہ بُرائی وہیں شروع ہو کر وہیں دم توڑ دیتی ہے لیکن اگر ایک سے زیادہ آدمیوں کے علم میں برائی آجائے اور وہ ان کا تذکرہ کرتے پھریں تو اس گناہ یا بُرائی کا احساس لوگوں کے دلوں سے مٹ جاتا ہے۔اور خود ان کا قدم اس بُرائی کی طرف اٹھنے لگتا ہے۔پس بُرائی کی اشاعت کا گناہ اصل بُرائی سے کم نہیں۔افسوس کہ عورتوں میں یہ بُرائی کثرت سے پائی جاتی ہے کہ ایک جگہ کوئی بُری بات دیکھی دوسری جگہ بیان کر دی۔اس طرح آہستہ آہستہ وہ بات سارے شہر یا گاؤں میں پھیل جاتی ہے اور اس کا تدارک مشکل ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تجسس سے بھی منع فرمایا ہے نہ تجسس کرونہ بُرائی کا علم ہونہ اس کی اشاعت ہو۔اور اگر علم بھی ہو جائے تب بھی اشاعت نہ کرو۔بدنظری کے متعلق قرآن مجید کی تعلیم کتنی اعلیٰ ہے انجیل کہتی ہے کہ تو کسی کو بُری نظر سے نہ دیکھ لیکن قرآن مجید فرماتا ہے۔وَقُل لِلْمُؤْمِنتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِ هِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَمِنِها ( النور : 32) مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔سوراخ میں کان، ناک ، آنکھ اور منہ بھی شامل ہے۔نہ کان سے کسی کی غیبت سنیں۔جس مجلس میں گناہ کی بو بھی سونگھیں اس سے دُور بھا گئیں۔جہاں بُرائی کا ماحول نظر آئے وہاں جانے سے اجتناب کریں اور ان کا منہ دوسروں کی بُرائی بیان کرنے کے لئے بند ہو جائے نیز فرمایا کہ وہ اپنی زنیتوں کو ظاہر نہ کرتی پھریں۔گویا اس آیت پر عمل کرنے سے گناہ اور بُرائی کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے اگر آج احمدی عورتیں اللہ تعالیٰ کے اس حکم اور قرآن کی اس تعلیم پر عمل کرنے والیاں ہوں تو ہمارا معاشرہ مثالی معاشرہ بن جاتا ہے اس آیت میں عزت کے تحفظ کا ابتدائی گر سکھایا گیا ہے کہ نیچی نظریں رکھو۔نہ بُرائی کی بات شعور نہ عملاً اس میں حصہ لو