خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 320 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 320

320 صلى الله اجلاسوں میں نہیں آتیں یا قومی کاموں میں حصہ نہیں لیتیں۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم خدا تعالیٰ کی خاطر اپنے ذاتی جھگڑوں کو چھوڑ دیں۔کیا ابھی تک وقت نہیں آیا کہ تو حید کا علم بلند رکھنے کی خاطر ہم میں یک جہتی پیدا ہو۔ایک دوسرے کی عزت کریں ایک دوسرے سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں۔آنحضرت کے فرمان کے مطابق کہ سچا مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ہم بھی حقیقی مسلمان بنیں۔ہم نے امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے۔ہم نے ان کے خلفاء کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔بیعت کا کیا مطلب ہے؟ یہی کہ انسان خدا تعالیٰ کی خاطر اپنے نفس کو خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیچ دے کہ آج سے میرا کچھ نہیں سب کچھ اختیار آپ کا ہے خدا کی خاطر اب ہر کام میں آپ کی فرمانبرداری کریں گی۔منہ سے تو ہم یہ کہتے ہیں لیکن بہت سوں کا عمل اس پر نہیں۔میری بہنو! احمدیت کی ترقی اسلام کی ترقی عورتوں کی ترقی لجنہ اماء اللہ کی ترقی اب آپ سے ایک عظیم الشان قربانی کا مطالبہ کر رہی ہے۔جس عظیم الشان مقصد کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے اور جس عظیم الشان مقصد کو آپ کے خلفاء نے آخری سانس تک پورا کیا۔اسی کے لئے اب آپ نے قربانیاں دینی ہیں۔اپنی غفلتوں کو چھوڑنا ہے اپنی سستیوں کو ترک کرنا ہے اور چین نہیں لیتا۔اس وقت تک جب تک کہ آپ آپ کی اولاد ، آپ کی عزت ، آپ کا مال، آپ کا آرام، سب کچھ خدا کے راستہ میں کام نہ آ جائے۔حضرت مصلح موعود کی مقدس روح اب بھی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ سونے کا زمانہ گزر گیا۔اب بھی وقت ہے کچھ کام کر لو۔آنے والی نسلیں اس زمانہ کے لئے ترسیں گی۔اور کہیں گی کاش وہ زمانہ ہمیں نصیب ہوتا کاش ہم بھی ویسی ہی قربانیاں کرتے جو ہم سے پہلے عورتوں نے کیں۔مگر جب احمدیت کا غلبہ ساری دنیا میں ہو چکا ہوگا تو اس وقت قربانیوں کا بھی مطالبہ نہ ہوگا۔لیکن آپ بہتوں نے مصلح موعود کا زمانہ بھی پایا اور اب اللہ تعالیٰ نے پھر محض اپنے فضل اور رحم کے ساتھ آپ کو ایک ہاتھ پر جمع کر دیا۔پھر قدرت ثانیہ کا ظہور آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔اللہ تعالیٰ کے احسانات پر احسانات دیکھے۔نشانات پر نشانات دیکھے۔فضل پر فضل پایا۔آپ اگر اب بھی دین کی خاطر قربانیاں نہ کریں گی اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہ کریں گی تو ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر ناراض نہ ہو۔جتنا زیادہ کسی کو انعام ملتا ہے اتنی ہی زیادہ اس پر ذمہ داری بھی عاید ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی آنکھیں کھولے۔آپ کو تو فیق عطا فرمائے کہ اسلام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں۔آمین اللهم آمین آخر میں اپنی تمام بہنوں کا جنہوں نے میرے غم میں میرے ساتھ ہمدردی اور محبت کا سلوک کیا مجھے