خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 319
319 ایک احمدی عورت بھی ایسی نہ رہ جائے جس نے مسجد ڈنمارک کی تعمیر میں حصہ نہ لیا ہو۔میری عزیز بہنو! ابھی تو یہ تیسری مسجد ہے جو آپ کے چندوں سے تعمیر کی جائے گی۔کیا صرف تین مسجدیں بنوا دینے سے ہمیں قرار آ سکتا ہے یا ہمارا مقصد پورا ہو سکتا ہے ہم نے ساری دنیا میں اسلام کو پھیلانا ہے ہم نے یورپ اور امریکہ کے ہر شہر میں مسجدیں بنانی ہیں تا دنیا کے کونے کونے سے اللہ اکبر اور لا اله الا الله محمد صلى الله رسول الله کی آواز بلند ہوتی رہے تا دنیا کے کونے کونے سے رات اور دن آنحضرت ﷺ پر درود بھیجا جائے۔یہ سب کام آپ سے ایک قربانی چاہتا ہے۔اسلام کا زندہ ہونا منحصر ہے ہماری موتوں پر ہمارے نفس کی موت پر جب تک آپ اپنے نفس پر موت وارد نہیں کر لیتیں اور سب کچھ اس کے حضور میں پیش نہیں کر دیتیں۔اس وقت تک مقصد حیات حاصل نہیں ہوسکتا۔اور پھر یہ سب کچھ دیا ہوا بھی تو اسی کا ہے۔آپ کے سامنے حضرت مصلح موعود کی زندگی کا نمونہ ہے کہ آپ نے اپنی ساری عمر اپنی صحت۔اپنی صلاحیتیں اپنے اوقات صرف اور صرف اس لئے خرچ کیے تا خدائے عزوجل کا نام دنیا میں بلند ہوتا خدا کی بھٹکی ہوئی مخلوق اپنے رب کو پہچانے اور آپ اس میں کامیاب رہے آپ نے دنیا کو زندہ خدا دکھا دیا۔آپ نے ان کا تعلق خدا تعالیٰ سے قائم کر کے دکھا دیا۔اسلام کی ساری تعلیم کے دو ہی بڑے محور ہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد آپ کی ساری زندگی انہی دو باتوں کے گرد گھومتی ہے جہاں ایک لگن یہ تھی کہ جماعت کے ہر مرد اور عورت کا تعلق خدا سے قائم ہو جائے۔وہاں جماعت کے ہر فرد کی بہبودی بھی مد نظر تھی کہ وہ ہر لحاظ سے ترقی کریں۔پھر عورتوں پر تو ان کے اس قدر احسانات ہیں جو گنائے بھی نہیں جا سکتے۔اب آپ کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اپنی سستیوں اور غفلتوں کو چھوڑ دیں۔جس مقام تک حضرت مصلح موعود آپ کو لے جانا چاہتے ہیں وہاں تک پہنچنے کی کوشش کریں بے شک وہ آج ہم میں نہیں ہیں۔لیکن ان کی روح آپ سے تبھی خوش ہو سکتی ہے جب آپ اپنی زندگی کے مقصد کو پہچانیں۔آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو خود دینی علم حاصل کریں تا اپنی اولادوں کی ایسی تربیت کر سکیں کہ وہ جماعت کے جانباز سپاہی ثابت ہوں۔خود سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیں۔جماعت کے لئے قربانیاں دیں۔دینی احکام پر عمل کریں اپنا نمونہ ایسا پیش کریں کہ دنیا آپ کی طرف کھینچے۔اپنی اولادوں کو وقف کریں ان کے دلوں میں دین اور سلسلہ کی محبت پیدا کریں۔امام وقت ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حکم کی اطاعت اور اس پر لبیک کہنا ہر عورت کا فرض ہے۔آپ کا اور آپ کی اولادوں کا ایمان خلافت پر اتنا مستحکم رہے کہ کوئی بڑے سے بڑا فتنہ اس کو متزلزل نہ کر سکے۔مجھے لجنہ کی رپورٹوں میں اس قسم کی شکایات ملتی رہتی ہیں کہ آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے عورتیں