خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 301 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 301

301 چشم پوشی: ایک اعلیٰ درجہ کا خلق ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو بندہ کسی دوسرے بندہ کا گناہ دنیا میں چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ قیامت کے دن چھپائے گا (مسلم) نیز یہ بھی آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ہر شخص کا گناہ تو بہ سے مٹ جائے گا مگر جو اپنے گناہوں کا آپ ﷺ اظہار کرتے پھریں ان کا کوئی علاج نہیں۔ان اسی طرح آپ ﷺ نے تجس سے منع فرمایا اور نیک ظنی کی ہمیشہ تلقین فرمائی۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے باطنی سے بچو اور تجسس نہ کیا کرو۔اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ سی سنائی خبر پر یقین نہ کر لیا کرو پہلے تحقیق کیا کرو کہ اس میں کتنی صداقت ہے۔اللہ تعالیٰ بھی قرآن مجید میں فرماتا ہے إِذَا جَاءَ كُمُ فَاسِقٌ بِنَبَاءٍ فَتَبَيَّنُوا (الحجرات: 7) آنحضرت فرماتے ہیں لَيْسَ الْخَبُرَ كَالْمُعَايِنَةِ (مسند احمد بن حنبل) سنی ہوئی بات پر اس طرح ایمان نہیں لے آنا چاہئے گویا دیکھی ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپکی اس زریں نصیحت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے عورتوں میں افسوس ہے کہ بدظنی۔تجسس اور چشم پوشی سے کام نہ لینا کثرت سے پایا جاتا ہے اس بات کی ضرورت ہے کہ بار بار ان کے سامنے رسول کریم ﷺ کی تعلیم اس بارہ میں بیان کی جائے بہت سی غلطیاں عدم علم کی وجہ سے ہوتی ہیں معلوم ہونے پر ہر وہ شخص جس کو محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے ضروران برائیوں کو چھوڑنے کی کوشش کرے گا صرف اسے بتانے کی ضرورت ہے کہ ان ان باتوں کو آپ نے نا پسند فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپ ﷺ کی اطاعت کی کامل تو فیق عطا فرمائے۔اللَّهُم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - دھوکہ بازی سے نفرت :۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ الَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَّبْعُثُونَ (المطففين: 5۔4۔3۔2) یعنی دوسروں کا حق مارنے والے لوگوں پر افسوس ہے کہ جب وہ دوسروں سے اپنا حق وصول کرتے ہیں تو خوب بڑھا چڑھا کر لیتے ہیں لیکن جب خود دوسروں کے حق ادا کرنے لگتے ہیں تو اپنا تول کم کر دیتے