خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 286
286 آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ نوٹ : حضرت سیدہ ام امتہ المتین صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ے یہ تقریر منگری کے جلسہ سیرۃ النبی منعقدہ زیر اہتمام لجنہ اماءاللہ منکمری میں ارشاد فرمائی:۔یکم مارچ 1964ء اِنَّ اللهَ وَمَلئِكَةَ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) آنحضرت ﷺ کو سب سے بڑا اعجاز اخلاق کا ہی دیا گیا تھا۔دشمن دوسرے معجزات پر اعتراض کر سکتا ہے لیکن آپ ﷺ کے اخلاق پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا واقف اسرار کون و مکاں نے آپ کے اخلاق کی تعریف کس قدر جامع الفاظ میں قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (قلم 5) آنحضرت ے ہرقسم کے معجزات میں تمام انبیاء سے بڑے ہوئے تھے لیکن اخلاقی اعجاز میں دنیا کی تاریخ آپ ﷺ کے مقابلہ میں کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتی۔خلق اور خلق دو الفاظ ہیں جو ایک دوسرے کے بالمقابل معنے رکھتے ہیں۔خلق ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خلق باطنی پیدائش کا نام ہے۔اخلاق خلق کی جمع ہے انسان کے تمام باطنی قومی جو اس کو غیر انسان سے ممتاز کرتے ہیں اخلاق میں داخل ہیں۔اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خلق سے انسان اپنی انسانیت کو درست کرتا ہے۔۔۔،،۔پس اخلاق سے مراد خدا تعالیٰ کی رضا جوئی (جو رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی میں مجسم نظر آتا ہے) کا حصول ہے اس لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرز زندگی کے موافق اپنی زندگی بنانے کی کوشش کرے یہ اخلاق بطور بنیاد کے ہیں۔اگر وہ متزلزل رہے تو اس پر عمارت نہیں بنا سکتے۔اخلاق ایک اینٹ پر دوسری اینٹ کا رکھنا ہے۔اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہے تو ساری دیوار ٹیڑھی رہتی ہے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے شت اول چوں نہد معمار کج تاثریا رود دیوار سج ملفوظات جلد اول صفحہ 83