خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 273 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 273

273 ایک دفعہ آنحضرت ﷺ دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر ملک میں خدا کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ ہندوستان میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ کا تھا اور نام اس کا ” کا ہن ، یعنی کرشن تھا۔آپ ﷺ سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ ہماری زبان میں بھی خدا تعالیٰ نے کلام کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔مِنْهُم مِّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُم مِّنْ لَّمْ نَقْصُصُ عَلَيْكَ - (المؤمن: 79) یعنی بعض کا ہم نے قرآن کریم میں ذکر کیا ہے اور بعض کا نہیں کیا۔یعنی بہت سے ایسے انبیاء ہیں جن کا ذکر نہیں آیا۔لیکن ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔کتنی امن اور صلح کی تعلیم ہے جو آنحضرت ﷺ نے دنیا کو دی۔تمام گزشتہ انبیاء کی عزت واحترام کو دنیا میں قائم فرمایا۔اگر نبی کریم کا وجود نہ ہوتا تو دنیا کو گزشتہ انبیاء کے متعلق کچھ بھی آگاہی نہ ہوتی پھر صرف انبیاء کی عزت کو قائم نہیں کیا۔بلکہ آپ ﷺ نے یہ تعلیم دی اگر اب ان کی کتب میں مشرکانہ خیالات ہیں تو اس کی ذمہ داری انبیاء پر نہیں بلکہ بعد میں لوگوں نے اپنے پاس سے ان میں زائد با تیں داخل کر لی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر آنحضرت ﷺ آئے نہ ہوتے اور قرآن شریف جس کی تاثیریں ہمارے آئمہ اورا کا بر قدیم سے دیکھتے آئے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں نازل نہ ہوا ہوتا تو ہمارے لئے یہ امر بڑا ہی مشکل ہوتا کہ جو ہم فقط بائکمیل کے دیکھنے سے یقنی طور پر شناخت کر سکتے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور دوسرے گزشتہ نبی فی الحقیقت اسی پاک اور مقدس جماعت میں سے ہیں جن کو خدا نے اپنے لطف خاص سے اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے۔یہ ہم کو فرقان مجید کا احسان ماننا چاہئے جس نے اپنی روشنی کی ہر زمانہ میں آپ دکھلائی اور پھر اس کامل روشنی سے گزشتہ نبیوں کی صداقتیں بھی ہم پر ظاہر کر دیں اور یہ احسان نہ فقط ہم پر بلکہ آدم سے لے کر مسیح تک ان تمام نبیوں پر ہے کہ جو قرآن شریف سے پہلے گزر چکے۔اور ہر ایک رسول اس عالی جناب کا ممنون منت ہے جس کو خدا نے وہ کامل اور مقدس کتاب عنایت کی جس کی کامل تا شیروں کی برکت سے سب صداقتیں ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں۔جن سے ان نبیوں کی نبوت پر یقین کرنے کے لئے ایک راستہ کھلتا ہے اور اُن کی نبوتیں شکوک اور شبہات سے محفوظ رہتی ہیں۔“ براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 290۔روحانی خزائن جلد 1 حاشیه در حاشیہ نمبر 1