خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 272
272 دنیا کی تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ میدان جنگ میں کبھی کسی نے مقابل قوم کا خیال نہیں کیا۔سوائے مسلمانوں کے کیونکہ ان کو اپنے آقا اور سردار کا حکم تھا کہ جب جنگ کے لئے جاؤ تو بوڑھوں عورتوں اور بچوں کو دکھ نہ دینا۔فصلیں برباد نہیں کرنا۔ان کے مذہبی لیڈروں اور معبدوں کو نہیں چھیڑنا۔درخت نہیں کاٹنا وغیرہ۔یہ خلاصہ ہے ان ہدایات کا جو نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو دیں اور جن پر مسلمانوں نے عمل کیا اور جو ملک فتح کیا اس کو گلزار بنادیا امن قائم رکھا۔عدل اور انصاف سے کام کیا۔غرض محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود تمام بنی نوع انسان کے لئے رحمت تھا۔آپ ﷺ نے جس رنگ میں انسانوں کی غمخواری مظلوموں کی حمایت۔بیکسوں کی فریادرسی اور محتاجوں کی حاجت براری کی اس کی مثال تاریخ عالم میں نظر نہیں آتی۔پھر آپ ﷺے صرف اپنے زمانے کے انسان کے لئے ہی رحمت نہیں تھے۔بلکہ اپنے سے پہلے زمانہ کے لئے بھی رحمت تھے۔اپنے زمانہ میں ساری دنیا کے لئے رحمت تھے اور مستقبل کے لئے بھی رحمت تھے۔اپنے سے پہلے زمانہ کے لئے رحمت :۔آنحضرت ﷺ کی رحمت کا ایک بھاری ثبوت آپ ﷺ کی وہ تعلیم ہے جس کے ذریعہ آپ ے نے خدائے تعالیٰ کی توحید کو قائم فرمایا اور دنیا کو بتایا اللہ تعالی ازل سے اپنے بندوں کی ربوبیت فرماتا رہا ہے جب کوئی قوم گمراہ ہوئی اس کی اصلاح کے لئے اس نے نبی بھجوائے جو بندوں کو اپنے مالک حقیقی کی عبادت کی تعلیم دیتے رہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں فرماتا ہے وَإِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر : 25) یعنی کوئی قوم اور بستی ایسی نہیں گزری جس میں کوئی نبی نہ گزرا ہو پھر اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (البقره: 137) یعنی ”اے مسلمانو ! تم دنیا کو بتا دو کہ ہم تمام انبیاء کی تعلیم پر ایمان لاتے ہیں خواہ وہ کسی ملک یا قوم میں پیدا ہوئے تھے۔ہم اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں تفرقہ نہیں کرتے کہ کسی کو قبول کریں اور کسی کو نہ کریں بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں کیونکہ وہ سب ایک ہی خدا کی طرف سے آئے تھے۔