خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 265 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 265

265 تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اسی طرح رشتہ دار ہمسایوں اور بے تعلق ہمسایوں اور پہلوؤں میں بیٹھنے والے لوگوں۔مسافروں اور جن کے تم مالک ہوان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔“ گویا اللہ تعالیٰ نے جتنی تاکید والدین اور دوسرے رشتہ داروں سے حسن سلوک کی فرمائی ہے اتنی ہی تاکید ہمسایوں سے حسن سلوک کی بھی فرمائی ہے۔اسی طرح ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم وہ گھر ہرگز مومن نہیں۔خدا کی قسم وہ گھر ہرگز مومن نہیں۔خدا کی قسم وہ گھر ہرگز مومن نہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کون مومن نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ جس کا ہمسایہ اس کے ضرر اور بدسلوکی سے محفوظ نہیں۔(مسند احمد بن حنبل ) عورتوں میں وعظ فرماتے ہوئے آپ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ اگر بکری کا ایک پایہ بھی کسی کو ملے تو اس میں وہ اپنے ہمسایہ کا حق رکھے۔“ اسی طرح ایک اور حدیث حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے ہمسایہ کو دکھ نہ دے۔(مسلم کتاب الایمان) معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور افراد میں ضرور کوئی نہ کوئی دوسرے کا ہمسایہ ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کا وجود جوسب انسانوں کے لئے رحمت تھا۔کتنی اعلی تعلیم معاشرہ کو بہتر بنانے کے لئے دیتا ہے۔اگر آپ ﷺ کی تعلیم پر تمام مسلمان عمل کرنے لگ جائیں تو معاشرہ جنت بن جائے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ رشتہ داروں کے لئے رحمت :۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی شادیاں ہو جاتی ہیں تو وہ اپنے بیوی بچوں کا تو خیال رکھتے ہیں مگر بوڑھے ماں باپ یا دوسرے قریبی رشتہ داروں کا خیال نہیں رکھتے۔قرآن مجید نے جگہ جگہ انتہائی زور ایتاءِ ذِی الْقُرُبی اور والدین سے حسن سلوک پر دیا ہے۔جیسا کہ اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے۔لَيْسَ الْبِرِّ اَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرِّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ