خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 261 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 261

261 (۳۳) دفعہ سبحان اللہ۔تینتیس (۳۳) دفعہ الحمد للہ اور چونتیس (۳۴) دفعہ اللہ اکبر پڑھا کرو اس ذریعہ سے تم کسی سے کم نہ رہو گے۔بخاری کتاب الاذان غرباء کے مالوں کی حفاظت کا آپ ﷺ کو اس قدر خیال تھا کہ حدیث میں آتا ہے ایک دفعہ آپ کے پاس کچھ اموال آئے تقسیم کرتے ہوئے ایک دینار آپ ﷺ کے ہاتھ سے گر گیا آپ ے بھول گئے۔اور کام ختم کر کے آپ ﷺ نماز کے لئے تشریف لے گئے۔نماز ختم کر کے آپ مے تیزی سے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔حالانکہ آپ کا دستور تھا کہ آپ نماز کے بعد مسجد میں دیر تک ذکر الہی میں مصروف رہتے تھے۔آپ ﷺ گھر کے اندر تشریف لے گئے دینار تلاش کیا پھر واپس باہر تشریف لا کر وہ دینار کسی مستحق کو دیا اور فرمایا یہ دینار مجھ سے گر گیا تھا اور میرے ذہن سے اتر گیا تھا۔نماز پڑھاتے ہوئے مجھے یاد آیا اور میں بے چین ہو گیا کہ اگر میری موت آگئی اور لوگوں کا یہ مال میرے گھر میں پڑا رہا تو میں خدا کو کیا جواب دوں گا۔اس لئے نماز پڑھاتے ہی میں فوراً اندر گیا اور یہ دینار لا کر حقدار کو دے دیا۔غریبوں سے بے انتہا شفقت اور رحمت رکھنے والے اس سراپا رحمت نے اپنی اولاد کے لئے صدقہ حرام فرما دیا تا کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ آپ ﷺ کی محبت کی وجہ سے اموال آپ ﷺ کی اولاد میں تقسیم کر دیا کریں اور نین اور حقدار محروم رہ جائیں ایک دفعہ آپ ﷺ کے نواسے جبکہ ان کی عمر دواڑھائی سال کی تھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صدقہ کی کھجوریں آئیں۔آپ بچہ تھے۔آپ نے ایک کھجور منہ میں ڈال لی۔آنحضرت ﷺ نے فورا آپ کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکال دی اور فرمایا یہ ہمارا حق نہیں ہے یہ خدا کے غریب بندوں کا حق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی بعثت کی غرض آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو پھر سے دنیا میں رائج کرنا تھا فر ماتے تھے:۔نیکی ایک زینہ ہے اسلام اور خدا کی طرف چڑھنے کا۔لیکن یا درکھو کہ نیکی کیا چیز ہے شیطان ہر ایک راہ میں لوگوں کی راہ زنی کرتا ہے اور ان کو راہ حق سے بہکاتا ہے مثلاً رات کو روٹی زیادہ پک گئی اور صبح باسی بچی رہی۔عین کھانے کے وقت کہ اس کے سامنے اچھے اچھے کھانے رکھے ہیں ابھی ایک لقمہ نہیں لیا کہ دروازہ پر آ کر فقیر نے صدا کی اور روٹی مانگی کہا کہ باسی روٹی سائل کو دے دو۔کیا یہ نیکی ہوگی؟ باسی روٹی تو پڑی ہی رہنی تھی تم پسندا سے کیوں کھانے لگے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَّاسِيرًا (الدهر : 9)