خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 260 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 260

260 آ جائے گا اسے امن دیا جائے گا۔کتنی عزت بلال کو دی۔ایک وہ وقت تھا کہ بلال کے سینے کو جوتیوں سے روندا جاتا تھا۔کہ تم ایک خدا کی عبادت سے باز آ جاؤ۔ہر ظلم روا رکھا جاتا تھا۔پھر وہ وقت آیا کہ اسلام کی فتح ہوئی محمد ﷺ نے لا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (سورة يوسف: 93) کہہ کر سب کو معاف کر دیا۔بلال کا دل اس وقت کہتا ہوگا مجھ پر ظلم توڑے گئے۔آج میرے ظلموں کا بدلہ لیا جائے گا۔محمد ﷺ نے جن کا وجود دوستوں اور دشمنوں سب کے لئے سراپا رحمت تھا۔آپ ﷺ نے جہاں بڑے سے بڑے دشمن کو معاف فرما دیا۔وہاں بلال کے جھنڈے تلے دشمنوں ہاں انہی دشمنوں کے جو ایک وقت میں بلال کی جان کے لاگو تھے سر جھکا دیئے اور عفو کے ساتھ ایسا شاندار انتقام لیا۔جس کی مثال دنیا کی تاریخ نہیں پیش کر سکتی۔غرباء کے لئے رحمت آپ ﷺ نے غرباء کی عزت و احترام سوسائٹی میں قائم کیا۔آپ ﷺے ان کی ضرورتوں اور حاجات کو پورا فرماتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بادشاہت عطا فرمائی۔دولت آپ ﷺ کے قدموں پر شار ہوئی۔لیکن آپ ﷺے سب کچھ غرباء میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ساتھ ہی عزت نفس کا سبق بھی ان کو دیتے تھے اور سوال کرنے سے منع فرماتے تھے۔امت محمدیہ کو یہ تعلیم دی کہ تم خود غرباء کا خیال رکھو اور ان کو بتا دیا کہ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذریت: 20) کہ غرباء کا ان کے مالوں میں حق ہے ان لوگوں کا بھی حق ہے جو اپنی حاجات کا اظہار کر دیں اور محروم یعنی مسکین کا بھی اور مسکین کی تعریف آپ ﷺ نے یہ بیان فرمائی کہ مسکین وہ ہے کہ خواہ کتنی بھی تکلیف اٹھائے سوال نہ کرے۔سائل کے متعلق بھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرُ (الضحى: 11) کبھی سوال کرنے والے کو جھڑکنا نہیں ایک تو وہ مجبور ہو کر اپنی عزت نفس کو زخمی کر کے سوال کر رہا ہوتا ہے۔اگر تم جھڑ کو گے تو اس کے جذبات اور مجروح ہو جائیں گے۔آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ہر وہ دعوت جس میں غرباء کو نہ بلایا جائے وہ بدترین دعوت ہے۔ایک دفعہ بعض غرباء آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ امراء ہر لحاظ سے اپنے اعمال میں ہم پر سبقت لے جاتے ہیں ان کے پاس مال ہے جو وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ہم قربانیوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔رحمتہ للعالمین کا دامن ہر طبقہ کے لئے وسیع تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس