خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 239 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 239

239 ایک غریب عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی۔رسول کریم ﷺ نے چند روز اسے نہ دیکھا۔آپ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ چند روز سے فلاں عورت نظر نہیں آ رہی۔لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ تو فوت ہوگئی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی۔میں بھی اس کے جنازہ میں شامل ہوتا۔مجھے بتاؤ اس کی قبر کہاں ہے۔پھر آپ ﷺ اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور دعا فرمائی۔حسن سلوک ہمسائیوں کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک نہایت ہی اچھا تھا۔آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جبرئیل مجھے بار بار ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔یہاں تک کہ مجھے خیال آتا ہے کہ ہمسایہ کو شائد وارث ہی قرار دے دیا جائے گا۔( بخاری ومسلم) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کو دکھ نہ دے۔اسی طرح آپ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم علی نے فرمایا خدا کی قسم وہ ہر گز مومن نہیں خدا کی قسم وہ ہر گز مومن نہیں صحابہ نے کہا یا رسول اللہ کون مومن نہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ جس کا ہمسایہ اس کے ضرر اور اس کی بدسلوکی سے محفوظ نہیں ( بخاری کتاب الادب) ایک دفعہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے شکایت کی کہ یا رسول اللہ میرے رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے نیک سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے تلخی سے پیش آتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو پھر تو تمہاری خوش قسمتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی مدد تمہیں ہمیشہ حاصل رہے گی۔آپ ﷺ ہمیشہ اس بات کی نصیحت فرماتے کہ حسن سلوک میں مذہب کی کوئی قید نہیں۔غریب رشتہ دار خواہ کسی مذہب کے ہوں ان سے حسن سلوک کرنا نیکی ہے۔حضرت ابوبکر کی ایک بیوی مشرکہ تھی۔حضرت ابو بکر کی بیٹی اسماء نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا میں اس سے حسن سلوک کر سکتی ہوں آپ منسلک کرسکتی ہوں؟ نے فرمایا ضرور وہ تیری ماں ہے اس سے حسن سلوک کر۔مجسم رحمت وجود عزیزوں رشتہ داروں غریبوں ، مظلوموں اور مسکینوں کے طبقہ سے حسن سلوک اور ہمدردی کا کسی قدر نقشہ کھینچنے کے بعد ایک اور مخلوق سے آپ ﷺ کی ہمدردی کا ذکر کرتی ہوں۔انتہائی مصیبت زدہ۔