خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 7
676 چونکہ یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ عورتوں کی اصلاح اور تربیت بہتر صورت میں عورتیں ہی کر سکتی ہیں اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے لجنہ اماءاللہ قائم فرمائی۔پس لجنہ اماءاللہ ایک کڑی ہے اس بابرکت نظام کی جس کے ساتھ محکم وابستگی کے بغیر ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے۔لہذا احمدی بہنوں کو چاہیے کہ وہ لجنہ اماءاللہ میں شامل ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قائم فرمودہ نظام سے وابستہ ہوں۔لجنہ اماءاللہ بائیس سال سے قائم ہے۔مگر ابھی تک اس کی طرف احمدی مستورات نے بہت کم توجہ کی ہے۔حالانکہ کوئی ترقی نظام کے بغیر نہیں ہوسکتی۔اس وقت تک اگر خواتین میں کچھ بیداری ہے۔تو وہ زیادہ تر قادیان کی مستورات میں یا معدودے چند اور جگہوں میں جہاں لجنہ قائم ہے۔حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا الہام ”اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔کسی ایک شہر یا قصبہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ ساری دنیا کی احمدی عورتوں کے لئے ہے اور یہ اصلاح بغیر منتظم ہوئے اور بغیر آپس میں تعاون کئے نہیں ہوسکتی۔جب تک ہر ایک احمدی عورت یہ نہ سمجھ لے کہ میرا انفرادی وجود کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔بلکہ میرا وجود دوسرے وجودوں کے ساتھ مل کر ہی طاقت اور قوت پا سکتا ہے۔اس وقت تک وہ ترقی نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے کہ عورتوں کیلئے واحد طریقہ منظم ہونے کا صرف لجنہ اماءاللہ ہے۔پس ہر احمدی عورت کو چاہیے کہ وہ لجنہ میں شامل ہو اور ہر شہر یا قصبہ یا گاؤں میں جہاں دو یا دو سے زیادہ احمدی عورتیں رہتی ہوں وہ مل کر لجنہ قائم کر لیں۔اور ایک دوسرے کے ساتھ پورا پورا تعاون کرتے ہوئے ایک دوسرے کی کمزوریوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے صبر استقلال اور ہمت کے ساتھ اصلاح کی کوشش کریں۔میں امید رکھتی ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کی تعمیل میں ایک سال کے اندر اندر سارے ہندوستان میں بجنات قائم ہو جائیں گی۔پس جہاں جہاں اس وقت تک لجنہ قائم نہیں وہاں کی عورتیں بہت جلد اپنے ہاں لجنہ قائم کر کے لجنہ مرکز یہ قادیان کو اطلاع دیں۔اللہ تعالیٰ کے کام کبھی نہیں رکھتے۔اور بہر حال ہو کر رہیں گے۔کیونکہ وہ علیم وقدیر ہے۔اور جو چاہتا ہے کر کے رہتا ہے کسی قسم کی روک اس کے منشاء کو پورا کرنے میں حائل نہیں ہوسکتی پس اپنا کام تو اس نے کرنا ہی ہے۔اور اپنی قدیم سنت کے مطابق کرنا بھی انسانی ہاتھوں سے ہے۔پھر کیوں نہ وہ ہاتھ ہمارے ہی ہاتھ ہوں۔جن سے خدائی کام انجام پاسکیں۔اور کیوں نہ وہ مبارک ہستیاں ہم ہی ہوں۔جن سے الہی منشاء ظہور پذیر ہو احمدیت کا مقصد اور منتہی ابھی بہت دور ہے۔جس طرح ایک سیڑھی کے آخری قدم تک