خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 6
666 لجنہ اماء اللہ کے قیام کی ضرورت اور اہمیت جس طرح ایک گاڑی اس وقت تک ٹھیک نہیں چل سکتی۔جب تک اس کے دونوں پیسے بالکل درست نہ ہوں۔اور اگر خفیف سا نقص بھی کسی ایک پہیہ میں پایا جائے۔تو ایسی گاڑی اچھی طرح نہیں چل سکے گی۔بعینہ یہی حال دنیا میں مرد و عورت کا ہے۔جب تک یہ دونوں دنیائے عمل میں قدم بقدم اور پہلو بہ پہلو نہ چلیں۔ان کا ترقی کے زینہ تک پہنچنا مشکل ہے۔بلکہ جس طرح گاڑی کے ایک طرف کا پہیہ ناقص ہو کر دوسری طرف کے پہیہ کے چلنے میں بھی روک ڈال دیتا ہے۔اسی طرح اگر عورت ترقی کے میدان میں چلنے کے قابل نہ ہو تو مرد کے ترقی کرنے میں روک ہوگی۔ی از لی قانون قوموں اور ملکوں اور خاندانوں میں یکساں طور پر چلتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورت کی تعلیم و تربیت پر خاص زور دیا ہے۔علاوہ اس کے کہ عورت مرد کے کام میں بہت سی سہولت کا باعث بن سکتی ہے۔عورت کی گود آئندہ نسل کا گہوارہ بھی ہے۔پس اگر عورتیں اچھی تربیت یافتہ نہ ہوں۔تو اولاد بھی اچھی اور قابل نہ ہوگی۔اور جب اولا دا چھی نہ ہوئی۔تو قوم پروان کس طرح چڑھے گی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔مجھے خدا تعالیٰ نے الہا ما فرمایا ہے کہ اگر پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو۔تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔گویا خدا تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کو تمہاری اصلاح کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔جب تک تم اپنی اصلاح نہ کر لو ہمارے مبلغ خواہ کچھ کریں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔الازهار لذوات الخمار صفحه 391 حضور عورتوں کو مخاطب کر کے مزید فرماتے ہیں: یہ کام ہمارے بس کا نہیں بلکہ یہ کام تمہارے ہی ہاتھوں سے ہو سکتا ہے۔جب تک ہماری مدد نہ کرو اور ہمارے ساتھ تعاون نہ کرو۔اور جب تک تم اپنی زندگیوں کو اسلام کے فائدہ کے لئے نہ لگاؤ گی۔اس وقت تک ہم کچھ نہیں کر سکتے اللہ تعالیٰ نے انسان کے دو حصے کر کے اس کے اندر الگ الگ جذبات پیدا کئے ہیں۔عورت مرد کے جذبات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتی اور مر دعورت کے جذبات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا۔پس چونکہ ہم ایک دوسرے کے جذبات کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔اس لئے مردوں کی صحیح تربیت مرد ہی کر سکتے ہیں اور عورتوں کی صحیح تربیت عورتیں ہی کر سکتی ہیں۔“ (الازھار لذوات الخمار صفحہ: 392)