خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 212
212 سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ے احمدی بچیوں کا لباس۔چال ڈھال۔بات چیت اور اخلاق ایسے ہونے چاہئیں کہ بغیر بتائے ہی ان کو دیکھنے والے پہچان لیں کہ یہ احمدی بچیاں ہیں۔ان کی چال ڈھال اور شکل سے یہ چیز نظر آ رہی ہو کہ یہ زندہ قوم کا نمونہ ہیں۔دوسروں کی نقل کرنا اچھا نہیں۔فیشن پرستی کا مادہ نہیں ہونا چاہئے۔ان کا فیشن سچائی دیانتداری اور اخلاق فاضلہ ہونا چاہئے۔اگر ایسا ہو تو ساری قو میں تمہاری پیروی کریں گی۔وہ اس فیشن کی اتباع کریں گی۔جس پر تم عامل ہوگی۔لجنات کی ممبرات اور سیکرٹریوں کو ناصرات کی اخلاقی تربیت پر بہت زور دینا چاہئے۔اور ان کو بہترین انسان بنانا چاہئے۔تا کہ وہ با خدا انسان بن سکیں۔اگر بچپن سے ہی ان میں اسلام کی محبت جماعت کے لئے قربانی کا جذبہ اور خدمت دین کا شوق نہ ہو تو وہ کچھ بھی نہیں۔ان کی زندگی کا نصب العین یہ ہونا چاہئے کہ انہوں نے اسلام کا جھنڈا دنیا میں گاڑنا اور بلند رکھنا ہے۔ان کی تعلیم کا اصل مقصد ہی یہ ہونا چاہئے کہ اسلام کو دنیا کے کناروں تک پھیلانا ہے۔ابو جہل کو مارنے والے صرف دو بچے ہی تھے اگر قرون اولیٰ کے بچے ایسا جذبہ اور جوش رکھتے تھے تو کوئی وجہ نہیں مسلمانوں کی بے عملی کے باعث اسلام کی شمع جب ماند پڑ گئی تو خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے اس اندھیرے کو روشنی میں تبدیل کرنا چاہا تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرما کر اس شمع کو دوبارہ روشن کر دیا۔لوگ کچھ بھی کہتے رہیں وہ اس روشنی کا انکار نہیں کر سکتے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے پھیلی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کوئی سکول نہ تھا۔تعلیمی ادارے نہ تھے۔مگر جن لوگوں نے آپ کی صحبت پائی ان میں اسلام کے لئے جو محبت اور جماعت کی قربانی کا جو جذ بہ پیدا ہوا اب اس کی مثال نظر نہیں آتی۔قادیان ہی ہمارا اصل مرکز ہے۔اور اس وقت اس میں ترقی کے سامان مہیا نہ تھے۔لیکن اس کے باوجودلوگوں نے اپنی جائیدادیں۔گھر بار اور دنیوی سامان کو لات مار کر قادیان ہجرت کر لی۔تاکہ علم دین سے آئندہ نسلیں بہرہ ور ہوسکیں۔گومرکز جدا ہو گیا اور تم بچیوں میں سے تو اکثر نے قادیان دیکھا بھی نہیں۔اور اس سے فائدہ بھی نہیں اٹھایا۔مگر تمہارے اندر قادیان کی محبت کا جذبہ موجزن ہونا چاہئے۔یہ کام نگرانوں کا ہے کہ ان کو ایسے واقعات سنائے جائیں جن سے بچیوں کے دلوں میں قادیان کے لئے محبت موجزن ہو۔