خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 5 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 5

5 تحریک جدید میں مستورات کا حصہ وہ مستورات جو یہ جانتی نہ تھیں کہ ہم پر کوئی چندہ بھی فرض ہے وہ حضور کی تربیت کے ماتحت ہر شعبے میں چندہ دینے لگیں۔اور قربانیاں کرنے لگیں مسجد برلن اور مسجد لنڈن کا تو پہلے ہی ذکر آچکا ہے تحریک جدید کے پہلے سال میں مستورات نے /4240 روپیہ چندہ دیا۔اور اب ہر سال بڑھ رہا ہے۔عام طور پر مستورات نے تحریک جدید کے انتشار کے ماتحت حد درجہ کی سادگی اختیار کر لی ہے۔اور گوشه کناری زیورات وغیرہ اپنی مرغوب اشیاء کے استعمال کو سلسلہ کے مفاد کی خاطر قربان کر دیا ہے۔وصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مومنوں اور مومنات کے لئے خدا کی وحی کے ماتحت ایک مقبرہ بہشتی کا انتظام فرمایا۔اس میں بھی عورتوں نے آپ کے زمانہ میں خوب حصہ لیا۔چنانچہ اس وقت تک 1470 مستورات موصیہ ہو چکی ہیں۔خلافت جو بلی فنڈ خلافت جو بلی فنڈ میں بھی مستورات نے نہایت خوشی سے حصہ لیا اور اس میدان میں بھی مردوں کے دوش بدوش حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے عقیدت کا اظہار کیا۔احمد یہ مجلس مشاورت میں حق نمائندگی آپ کا یہ بھی ایک بڑا احسان ہے کہ آپ نے مستورات کو اپنی قومی مجلس شوریٰ میں حق نمائندگی عطا فرمایا۔اور یہ ایسا اقدام ہے جو ہندوستان کی کسی قوم کی عورتوں کو بھی حاصل نہیں اس کے علاوہ آپ کے اور بھی بیسیوں احسانات ہیں مثلاً بچوں کی تربیت کے لئے ناصرات الاحمدیہ کا قیام فرمایا۔عورتوں کا حق وراثت دلوانے کا مردوں سے عہد لیا بعض جاہل مردوں کے مظالم سے بچانے کے لئے محکمہ قضاء کے دروازے کھولے۔الغرض احمدی عورت نے علم میں عمل میں، قربانی میں، نیکی میں تقویٰ اور طہارت میں حضور کے زیر سایہ جس قدر ترقی کی اس کی مثال کسی قوم میں نہیں مل سکتی۔اس لئے احمدی مستورات کا فرض ہے کہ ایسے محسن آقا کے لئے دن اور رات دعاؤں میں مشغول رہیں تا اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت دے اور ان کے ارادوں اور عزائم کو پورا کرے۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔(الحکم جوبلی نمبر 1939ء)